تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 257 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 257

فرض کرو باپ آگے بیٹھا ہے اور بیٹا پیچھے ہے اور بیٹے نے یہ دیکھا کہ ایک سانپ اس کے باپ کے کوٹ یا قمیص پر چڑھتا جا رہا ہے اور وہ عین اس کی گردن تک پہنچ گیا ہے وہ سمجھتا ہے اگر میں نے ایک منٹ کی بھی دیر کی تو سانپ اسے کاٹ لے گا۔ایسی صورت میں اگر وہ سانپ کو اپنے ہاتھ سے ہٹاتا ہے تو اسے خطرہ ہوتا ہے کہ کہیں سانپ ہوشیا ر ہو کر میرے باپ کو کاٹ نہ لے۔وہ اس کا علاج صرف یہی سمجھتا ہے کہ کسی جھٹکے کے ذریعہ اسے الگ کیا جائے اس وقت جب وہ اپنے دائیں بائیں دیکھتا ہے تو اسے سوائے بوٹ کے اور کوئی چیز نظر نہیں آتی۔اس وقت وہ یہ نہیں سوچے گا کہ میں اپنے ابّا جان کو بوٹ کس طرح ماروں بلکہ اگر اسے بوٹ ملے گا تو بوٹ اور اگر جوتی ملے گی تو جوتی سانپ پر زور سے مارے گا اورسمجھے گا کہ اگر میں نے بوٹ یا جوتی نہ ماری تو میرے باپ کو زیادہ نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔اب دیکھو اس جگہ اس نے اپنے باپ کو جوتی ماری ہوگی مگر لوگ اسے ملامت نہیں کریں گے کہ بڑا خبیث تھا اپنے باپ کو اس نے جوتی مار دی بلکہ ہر شخص اس کی تعریف کرے گا اور کہے گا کہ بڑا عقل مند بیٹا تھا جس نے اپنے باپ کی جان بچا لی۔اگر وہ ایسا نہ کرتا تو سانپ اس کے باپ کو ضرور ڈس لیتا گویا ایک ہی فعل ایک جہت سے تو قابل مذمت ہوتا ہے اور دوسری جہت سے قابل تعریف ہوتا ہے۔فرض کرو کسی جگہ آگ لگی ہوئی ہو اور ایک شخص مصلّٰی بچھا کر نماز پڑھنے لگ جائے لوگ شور مچا رہے ہوں کہ پانی لاؤ پانی لاؤ، اور یہ بیٹھا تسبیح ہاتھ میں لئے ذکر الٰہی کر رہا ہو تو لوگ یہ نہیں کہیں گے کہ یہ بڑا نمازی ہے خدا سے بڑی محبت رکھنے والا ہے بلکہ ہر شخص اس کی مذمت کرے گا حالانکہ نماز بڑی اچھی چیز ہے۔غرض نقطۂ نگاہ اور محل کے بدلنے سے انسانی اقوال اور افعال کی حیثیت بھی بدل جاتی ہے۔یہ بات کہ شر خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور خیر بندے کی طرف سے، اس کو تو قرآن کریم نے کلّی طور پر ردّ کر دیا ہے۔یہ جائز ہی نہیں کہ کوئی شخص یہ کہے کہ نیکی بندے کی طرف سے آتی ہے اور بدی خدا تعالیٰ کی طرف سے۔یہ ہر زاویۂ نگاہ سے بری بات ہے اور اس کی کوئی نیک توجیہ ہو ہی نہیں سکتی۔یہ کہ خیر خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور شر بندہ کی طرف سے، اس کی تردید قرآن کریم نہیں کرتا بلکہ تائید کرتا ہے جیسا کہ سورۂ نساء میں فرماتا ہے مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ١ٞ وَ مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ سَيِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَ (النساء:۷۹) جو تجھے نیکی پہنچے وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جو شر پہنچے وہ تیرے نفس کی طرف سے ہے اس کی تردید قرآن کریم نے کسی جگہ نہیں کی۔بلکہ ہمیشہ اس کی تائید کی ہے اور جو بظاہر تردید معلوم ہوتی ہے وہ بھی تردید نہیں بلکہ تائید ہے۔چنانچہ اس سے پہلی آیت میں جو کہا گیا ہے کہ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ۚ