تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 258
وَاِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِكَ١ؕ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ فَمَالِ هٰۤؤُلَآءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُوْنَ يَفْقَهُوْنَ حَدِيْثًا(النساء: ۸۰) جب بھلائی آتی ہے تو کہتے ہیں یہ خدا کی طرف سے ہے اور جب برائی آتی ہے تو کہتے ہیں یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہے حالانکہ دونوں خدا کی طرف سے ہیں۔اس کا وہ مفہوم نہیں جو مَاۤاَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ١ٞ وَ مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ سَيِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَ کا ہے بلکہ اس کا مفہوم بالکل اور ہے۔درحقیقت اس آیت میںمنافقین کی اس شرارت کی تردید کی گئی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جس کوشش کا نیک نتیجہ نکلے وہ کہتے تھے کہ یہ تو اتفاقاً ہے اس میں کسی الٰہی تائید یا آپ کی کسی اعلیٰ تدبیر کا دخل نہیں۔مگر وہ الفاظ یہ استعمال کرتے تھے کہ ھٰذِہٖ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ۔دراصل یہ ایک محاورہ ہے جو ان لوگوں نے جن کے دلوں میں خدا تعالیٰ پر کامل ایمان نہیں ہوتا اتفاقی امور کے لئے ایجاد کیا ہوا ہے اس سے یہ مراد نہیں ہوتی کہ انہیں خدا تعالیٰ کی ذات پر یقین ہے اور وہ اس کام کو خدا تعالیٰ کی تائید کا نتیجہ سمجھتے ہیں بلکہ یہ محض رسمی رنگ کے الفاظ ہوتے ہیں جو ایمان پر دلالت نہیں کرتے بلکہ اس غرض کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں کہ اسے اتفاق قرار دیا جائے۔ہمارے ملک میں بھی اتفاقی امور کے متعلق اس قسم کے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں چنانچہ جب کوئی واقعہ ہو تو لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ یہ کام ’’رب سببی‘‘ ہو گیا یا ’’رب سببوں‘‘ فلاں چیز مل گئی ہے حالانکہ ان کے دل میں ذرا بھی خدا تعالیٰ کا خوف اور اس کی خشیت نہیں ہوتی۔ذرا بھی ان کو اس بات پر یقین نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ان کو کامیابی عطا فرمائی ہے۔محض رسمی رنگ میں یہ الفاظ ان کی زبان سے نکل جاتے ہیں۔اور مراد یہ ہوتی ہے کہ اتفاقیہ طور پر یہ کام ہو گیا ہے۔پس یہ الفاظ ان کے کسی ایمان پر دلالت نہیں کرتے بلکہ یہ ایک محاورہ ہے جو لوگوں کی زبان پر چڑھا ہوا ہوتا ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ ایک مومن جب یہ الفاظ استعمال کرتا ہے تو اس کی مراد حقیقتاً یہ ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھ سے یہ نیک معاملہ کیا ہے لیکن ایک کافر یا منافق جب ان الفاظ کو استعمال کرتا ہے تو اس کی مراد صرف یہ ہوتی ہے کہ یہ کام محض اتفاق سے ہو گیا۔اس سے زیادہ یہ الفاظ اس کے نزدیک اپنے اندر کوئی معنے نہیں رکھتے یہی بات اللہ تعالیٰ نے اس جگہ بیان فرمائی ہے کہ منافقین کی حالت یہ ہے کہ جب انہیں کوئی بھلائی پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں ھٰذِہٖ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ ’’ رب سببی‘‘ یہ بات ہو گئی ہےیعنی اتفاقی طور پر ایسا ہو گیا ہے پس یہ محض رسمی الفاظ ہیں۔ان کے ایمان پر دلالت کرنے والے الفاظ نہیں ہیں چنانچہ اس کا ثبوت یہ ہے کہ وہ نقصان کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتے تھے جو بے ایمانی کی علامت تھی۔اگر وہ نقصان کو اپنی طرف منسوب کرتے تو اور بات ہوتی مگر وہ نقصان کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی