تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 256
(۳)یا خیر خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو اور شر انسان کی طرف سے۔(۴) یا شر خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو ا ور خیر انسان کی طرف سے۔پانچویں بات تو کوئی ہو ہی نہیں سکتی۔قرآن کریم نے اس امر کو بھی ردّ کیا کہ دونوں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور اس امر کو بھی ردّ کر دیا ہے کہ دونوں انسان کی طرف سے ہیں اور اس امر کو بھی کہ خیر خدا تعالیٰ کی طرف سے اور شر بندہ کی طرف سے ہے اور اسے بھی ردّ کیا ہےکہ شر خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور خیر بندہ کی طرف سے۔اس کا حل یہ ہے کہ یہ سب امور الگ الگ زاویہ اور الگ الگ نقطۂ نگاہ کے ماتحت بیان کئے گئے ہیں اور ان میں جو اختلاف نظر آ رہا ہے وہ صرف زاویۂ نگاہ کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے۔جہاں کسی بات کو بیان کر کے اس کی تردید کی گئی ہے وہاں اور زاویہ نگاہ ہے اور جہاں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے وہاں اور زاویۂ نگاہ ہے اور زاویۂ نگاہ کے اختلاف اور نقطۂ نگاہ کے تغیر سے بہت کچھ تبدیلی ہو جایا کرتی ہے۔مثلاً ایک شخص کہتا ہے مجھے نبی جو کچھ کہے گا وہ میں کروں گا یا خلیفۂ وقت جو کچھ کہے گا اس پر عمل کروں گا یا امیر اور پریذیڈنٹ جو کچھ کہے گا وہی کروں گا۔اب بظاہر یہ بڑی معقول بات ہے اور جو بھی سنے گا اسے درست قرار دے گا لیکن اگر گھر میں بیٹھے ہوئے کسی شخص کے سامنے روٹی رکھی جائے اور وہ کہے کہ میں اس وقت تک روٹی نہیں کھاؤں گا جب تک نبی یا خلیفہ یا امیر یا پریذیڈنٹ مجھے آ کر نہ کہے تو گو بات وہی ہوگی۔مگر نقطۂ نگاہ کے بدل جانے اور اس کے محل میں تبدیلی آ جانے کی وجہ سے ہم اس کی ایک بات کو غلط کہیں گے اور دوسری بات کو ٹھیک کہیں گے یا اگر ایک شخص ہنگامی طور پر کسی چندے کی تحریک کرتا ہے اور لوگوں سے کہتا ہے کہ فلاں غرض کے لئے روپیہ دو اور وہ اسے کہتے ہیں کہ جب تک ہمارا امیر اس چندے میں حصہ لینے کی اجازت نہ دے یا جب تک مرکز کی طرف سے اس بارہ میں باقاعدہ اجازت حاصل نہ کر لی جائے ہم چندہ نہیں دے سکتے تو یہ بالکل صحیح بات ہو گی۔اگر اس طرح لوگوں کو چندے لینے کی اجازت دے دی جائے تو مرکزی تحریکات کے لئے لوگوں کے پاس روپیہ نہیں رہ سکتا۔لیکن اگر ایک شخص کے پاس سیکرٹری مال یا تحریک جدید کا سیکرٹری چندہ کی وصولی کے لئے جائے اور وہ کہے کہ جب تک خلیفۃ المسیح کا میرے نام خط نہ لاؤ گے یا جب تک بیت المال مجھے نہ لکھے گا میں تمہیں چندہ نہیں دے سکتا تو ہر شخص اس کی بات کو غلط قرار دے گا۔اگرچہ پہلے اسی بات کو صحیح سمجھا جا چکا ہوگا۔وہ فقرہ ایک اور نقطۂ نگاہ کے ماتحت کہا گیا تھا اور یہ فقرہ ایک اور نقطۂ نگاہ کے ماتحت کہا گیا ہے۔چونکہ زاویۂ نگاہ بدل گیا ہے اس لئے دونوں میں سے ایک بات کو ہم درست قرار دیں گے اور دوسری کو غلط۔غرض زاویۂ نگاہ کی تبدیلی سے بہت بڑا فرق پیدا ہو جاتا ہے۔مثلاً باپ کو جوتی مارنا کتنا خطرناک جرم ہے لیکن