تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 255
کی طرف سے ہے اور تکلیف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے۔اور اس پر انہیں تنبیہ کی گئی تھی لیکن اس دوسری آیت میں فرماتا ہے کہ نیکی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور بدی تمہاری طرف سے۔(۴) پھر فرماتا ہے مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَيْهَا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيْدِ (حٰمٓ السّجدۃ:۴۷) نیکی بھی انسان کے لئے ہے اس کی نفس کی طر ف سے آتی ہے اور بدی بھی اسی کی طرف سے پیدا ہوتی اور اس کی سزا اسے مل جاتی ہے وَ مَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيْدِ۔تیرا رب لوگوں پر ظلم کرنے والا نہیں جو کچھ کرتے ہیں لوگ خود کرتے ہیں۔اس جگہ برائی اور بھلائی دونوں کو بندہ کی طر ف منسوب کر دیا ہے۔(۵) اسی طرح قارون جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں گذرا ہے اس کے متعلق سورۂ قصص میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے دعویٰ کیا اِنَّمَاۤ اُوْتِيْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ عِنْدِيْ (القصص:۷۹) میں نے اپنے علم کے مطابق کام کیا اور مجھے اس کا نتیجہ مل گیا مگر اللہ تعالیٰ نے اسے توبیخ کی اور فرمایا کہ وہ جھوٹ بولتا اور خدا تعالیٰ پر افتراء سے کام لے رہا ہے۔اب یہاں بظاہر ساری ہی باتیں الٹ گئیں اور جو کچھ بیان کیا گیا تھا ان سب کی تردید کر دی گئی۔جب بندے نے کہا کہ نیکی اور بدی دونوں خدا تعالیٰ کی طرف سے آتی ہیں تو اللہ تعالیٰ نے کہا نہیں یہ بات بالکل غلط ہے۔جب بندے نے کہا کہ نیکی خدا کی طرف سے اور بدی بندے کی طرف سے آتی ہے تو اللہ تعالیٰ نے کہا یہ بالکل غلط ہے۔کُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ ہر بات اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے، نیکی بھی اسی کی طرف سے آتی ہے اور بدی بھی اسی کی طرف سے آتی ہے۔مگر پھر ان دونوں کے خلاف یہ بات بیان کر دی کہ نیکی خدا کی طرف سے اور بدی بندے کی طرف سے آتی ہے۔اور آخر میں کہہ دیا کہ نیکی اور بدی دونوں بندے کی طرف سے پیدا ہوتی ہیں۔سورۂ فجر میں تو فرمایا کہ عزت اور ذلت دونوں تم نے اللہ تعالیٰ کی طرف کیوں منسوب کیں اور سورۂ نساء میں فرما دیا کہ عزت اور ذلت دونوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔ایک کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا اور دوسری کو نہ کرنا درست نہیں۔تیسرے سورۂ نساء کی اگلی آیت میں ہی فرما دیا کہ عزت خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور ذلت اپنے نفس سے۔چوتھے سورۂ حٰم سجدہ میں فرمایا کہ دونوں ہی انسان کی طرف سے ہیں۔خیر و شر پہنچنے کے متعلق چار نظریے اب بظاہر یہ چار اختلاف ہیں اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر سچ کیا ہے؟ آخر چار ہی صورتیں ہو سکتی ہیں۔(۱) یا تو نیکی اور بدی دونوں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوں۔(۲)یا نیکی اور بدی دونوں انسان کی طرف سے ہوں۔