تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 254 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 254

خبر پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے یہ ویسی ہی بات ہے جیسے کہا گیا تھا کہفَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ رَبُّهٗ فَاَكْرَمَهٗ وَ نَعَّمَهٗ١ۙ۬ فَيَقُوْلُ رَبِّيْۤ اَكْرَمَنِ۔لیکن جب انہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں یہ خدا کی طرف سے نہیں ہو سکتی بندوں کی کارروائیوں کی وجہ سے ہے۔اور چونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم مسلمانوں کے حاکم ہیں اور وہی کفر کے مقابلہ میں تدابیر اختیار کرتے رہتے ہیں اس لئے نقصان ان کی طرف منسوب کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں یہ خرابی نعوذ باللہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی بے تدبیری کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے فرماتا ہے۔قُلْ۔تو ان لوگوں سے کہہ دے کُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ۔تم بالکل جھوٹ بولتے ہوانعام بھی خدا کی طرف سے آتا ہے اور سزا بھی خدا کی طرف سے آتی ہے۔فَمَالِ هٰۤؤُلَآءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُوْنَ يَفْقَهُوْنَ حَدِيْثًا۔اس قوم کو کیا ہو گیا کہ یہ اتنی موٹی بات بھی نہیں سمجھتی کہ جو کچھ کرتا ہے خدا تعالیٰ کرتا ہے اس لئے تم یہ کہو کہ انعام بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے اور سزا بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے۔اب عجیب بات ہے کہ کافروں نے بھی تو یہی کہا تھا کہ عزت اور ذلت دونوںخدا کی طرف سے آتی ہیں۔چنانچہ خود قرآن کریم نے ان الفاظ میں ان کے خیالات کا ذکر کیا کہ فَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ رَبُّهٗ فَاَكْرَمَهٗ وَ نَعَّمَهٗ١ۙ۬ فَيَقُوْلُ رَبِّيْۤ اَكْرَمَنِ وَ اَمَّاۤ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهٗ١ۙ۬ فَيَقُوْلُ رَبِّيْۤ اَهَانَنِ۔جب اس پر انعامات نازل ہوتے ہیں تو کہتا ہے رَبِّيْۤ اَكْرَمَنِ۔میرے رب نے میری عزت کی اور جب اس پر ایسی صورت میں ابتلا وارد کرتا ہے کہ اس کا رزق تنگ ہو جاتا ہے تو وہ کہتا ہے رَبِّيْۤ اَهَانَنِ۔میرے رب نے میری اہانت کی۔اب یہ بات تو وہی ہے جو سورۂ نساء میں بیان کی گئی ہے۔مگر آیت زیر تفسیر میں تو یہ فرمایا ہے کہ تم ایسا مت کہو کہ نیکی بھی خدا کی طرف سے ہے اور بدی بھی خدا کی طرف سے ہے۔مگر دوسرے مقام پر جب بعض لوگوں نے یہ کہہ دیا کہ نیکی خدا کی طرف سے ہے اور بدی بندے کی طرف سے۔تو ان کو ڈانٹ دیا کہ یہ بڑی خطرناک بات ہے جو تم نے کہی۔حقیقت یہ ہے کہ نیکی بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے اور بدی بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے۔گویا دونوں آیتوںمیں ایک نمایاں تضاد پایا جاتا ہے۔ایک جگہ نیکی اور بدی دونوں کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا غلط قرار دیا گیا ہے اور دوسری جگہ نیکی اور بدی دونوں کا انتساب اللہ تعالیٰ کی طرف کیا گیا ہے۔تیسری جگہ فرماتا ہے مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ١ٞ وَ مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ سَيِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَ (النساء:۷۹) جو نیکی تجھ کو پہنچے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے وَ مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ سَيِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَ اور جو تکلیف تجھ کو پہنچے وہ تیرے نفس کی طرف سے ہے۔حالانکہ سورۂ نساء کی پہلی آیت میں یہی بات کفار نے کہی تھی کہ نیکی کا ظہور خدا تعالیٰ