تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 250
نشانات دیکھے تھے سب کے سب مرتد ہو گئے۔حدیثوں میں آتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صرف مکہ اور مدینہ میں ہی باجماعت نماز ہوا کرتی تھی باقی ہر جگہ ارتداد کی وبا پھیلی ہوئی تھی (البدایۃ والنـھایۃ جزء سادس صفحہ ۳۴۴) سو حضرت عمرؓ فرماتے ہیں بُلِیْنَا بِالضَّـرَّاءِ فَصَبَـرْنَا۔ہم پر مصائب آئے۔بڑی بڑی مشکلات آئیں مگر ہم نے جرأت دکھلائی، ہمت کا مظاہرہ کیا اور ان مصائب سے ذرا بھی نہ گھبرائے وَبُلِیْنَا بِالسَّـرَّاءِ فَلَمْ نَصْبِرْ لیکن جب خدا تعالیٰ نے انعام پر انعام۔فتح پر فتح۔نصرت پر نصرت اور دولت پر دولت دی تو ہماری جماعت سو فی صدی اس امتحان میں پاس نہ ہو سکی جس طرح پہلے پاس ہوئی تھی وَلِھٰذَا قَالَ اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ۔اسی بنا پر امیرالمومنین کہتے ہیں (یہ یاد رکھنا چاہیے کہ محاورہ میں امیر المومنین سے مراد صرف حضرت علیؓ ہوتے ہیں گو تمام خلفاء ہی امیرالمومنین ہیں لیکن بعض اسلامی مصنفین میں چونکہ تفضیلی رنگ پایا جاتا تھا اور وہ حضرت علیؓ کو اپنے درجہ میں باقی تمام خلفاء سے بڑا سمجھتے تھے اس لئے انہوں نے یہ محاورہ بنا دیا کہ جب وہ امیرالمومنین کا لفظ استعمال کرتے تو اس سے مراد محض حضرت علیؓ ہی ہوتے۔اس جگہ بھی غالباً حضرت علیؓ ہی مراد ہیں۔وہ فرماتے ہیں) مَنْ وُسِّعَ عَلَیْہِ دُنْیَاہُ فَلَمْ یَعْلَمْ اَنَّہٗ قَدْ مُکِرَ بِہٖ فَھُوَ مَـخْدُوْعٌ عَنْ عَقْلِہٖ یعنی جس کے لئے اس کی دنیا وسیع ہو جائے، اسے ہر قسم کی آسائشیں اور سامان میسر آ جائیں، اسے کثرت سے دولت مل جائے فَلَمْ یَعْلَمْ اَنَّہٗ قَدْ مُکِرَ بِہٖ اور اسے یہ پتہ نہ لگے کہ اسے ابتلا میں ڈالا جا رہا ہے گویا دولت بڑھنے اور آسائش کے سامانوں میںزیادتی ہونے سے اس کے دل میں یہ احساس پیدا نہ ہو کہ میرے لئے یہ آرام کی صورت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ اس ذریعہ سے میرا امتحان لے رہا ہے تو فَھُوَ مَـخْدُوْعٌ عَنْ عَقْلِہٖ ایسا شخص یقیناً پاگل ہے درحقیقت صحیح الدماغ انسان وہی ہے کہ جب مصائب ومشکلات آئیں تب بھی وہ سمجھے کہ خدا تعالیٰ میرا امتحان لے رہا ہے اور اگر اسے انعامات ملیں یا دولت کی فراوانی اسے حاصل ہو جائے تب بھی وہ یہ سمجھے کہ اللہ تعالیٰ میرا امتحان لے رہا ہے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَنَبْلُوْكُمْ بِالشَّرِّ وَ الْخَيْرِ فِتْنَةً(الانبیاء:۳۶) ہم تمہارے ایمان کو آزمانے کے لئے کبھی ترقی دیں گے اور کبھی دکھ دیں گے۔گویا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جو کچھ فرمایا وہ قرآن کریم سے ہی ماخوذ تھا۔قرآن کریم میں یہی مضمون بیان کیا گیا ہے کہ ابتلا کے معنے عذاب کے ہی نہیں یعنی یہی نہیں کہ اگر کوئی موت واقع ہو جائے یا کوئی مالی نقصان پہنچ جائے تو یہ ابتلا ہے بلکہ کسی کو مال و دولت کا مل جانا بھی ایک ابتلا ہے۔اور یہ بھی ویسا ہی خطرناک ہے جیسے ابتلاءِ تکلیف خطرناک ہے اور دولت و عزت کی فراوانی کا حاصل ہونا بھی ویسا ہی ڈر کا مقام ہے جیسے دولت و عزت کا چھینا جانا ڈر کا مقام ہے۔اگر آج کسی شخص کی