تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 249
اور انسان پر مختلف تکالیف اور مصیبتیں آتی ہیں تو یہ زیادہ آسان ہوتا ہے۔مصیبتیں آتی ہیں تو وہ سمجھتا ہے اب تو یہ سر پر آ ہی پڑی ہیں ان کو برداشت کرنا چاہیے اور کہتا ہے کہ جو مصیبت پڑگئی سو پڑ گئی اور اس وجہ سے وہ صبر سے کام لے لیتا ہے۔لیکن جو شکر کے ذریعہ ابتلا آتا ہے وہ نہایت خطرناک ہوتا ہے کیونکہ انسان کہتا ہے جو چیز میرے قبضہ میں آ گئی ہے اس سے میں پوری طرح حظّ اٹھا لوں اس طرح وہ خدا کو بھول جاتا ہے۔صبر کے ساتھ ماضی کا تعلق ہے اور ماضی کو انسان بھلا سکتا ہے لیکن انعام کا مستقبل کے ساتھ تعلق ہوتا ہے اور مستقبل کو بھلانا بڑ ا مشکل ہوتا ہے اسی لئے وہ کہتے ہیں کہ اصل ابتلا وہ ہے جو انعام کے رنگ میں آتا ہے۔مثلاً اللہ تعالیٰ کسی کو دولت دیتا ہے، کسی کو صحت دیتا ہے، کسی کو عزت دیتا ہے، کسی کو طاقت دیتا ہے، کسی کو حکومت دیتا ہے۔یہ مختلف انعامات ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کئے جاتے ہیں لیکن بسا اوقات انسان دولت اور عزت کے ملنے پر خدا تعالیٰ کو بالکل بھول جاتا ہے۔طاقت کے ملنے پر تکبّر میں مبتلا ہوجاتا ہے۔تجارت اور صنعت و حرفت یا زمیندارہ کے کام میں ترقی حاصل ہونے پر اپنے اموال کا غلط استعمال کرتا ہے، مقدمات میں روپیہ برباد کرتا ہے، غریبوں کی حق تلفی کرتا ہے، اسی طرح اپنے ہاتھوں اپنی آنکھوں اور اپنے کانوں وغیرہ کا ناجائز استعمال کرتا ہے پس اس ابتلا میں کامیاب اترنا زیادہ مشکل ہوتا ہے بہ نسبت اس کے کہ کوئی شخص مر جائے تو دوسرا سن کر کہہ دے۔اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ۔جب کسی شخص کو خدا تعالیٰ کی طرف سے دولت ملتی ہے تو اس کا اپنے نفس کو عیاشی سے روکنا، اچھے کھانے اور اچھے پہننے سے روکنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔اسی لئے وہ کہتے ہیں کہ ابتلا انعامی زیادہ مشکل ہوتے ہیں اور ان میں بہت کم لوگ کامیاب ہوا کرتے ہیں۔حضرت عمرؓ کا ایک قول بھی انہی معنوں میں پایا جاتا ہے وہ فرماتے ہیں بُلِیْنَا بِالضَّـرَّاءِ فَصَبَرْنَا کہ ہماری اُمت پر اللہ تعالیٰ نے بڑی بڑی مصیبتیں ڈالیں لیکن ہم نے صبر سے کام لیا اور کوئی شخص ہم میں سے ان مصیبتوں پر نہیں گھبرایا وَبُلِیْنَا بِالسَّـرَّاءِ فَلَمْ نَصْبِرْ (مفردات ) لیکن پھر ہم پر خدا تعالیٰ نے انعامات والے ابتلا وارد کئے۔جب انعامی ابتلا اللہ تعالیٰ نے ہم پر ڈالا تو کئی لوگ ہم میں سے صبر نہ کر سکے چنانچہ دیکھ لو صحابہؓ کی تکلیفوں کے زمانہ میں ان میں سے ایک شخص بھی اپنے مذہب سے منحرف نہیں ہوا۔لیکن انعام کے زمانہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی وفات کے معاً بعد بادشاہت اور خلافت کے جھگڑے میں سارا عرب مرتد ہو گیا سوائے مکہ اور مدینہ کے ان لوگوں کے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی صحبت میں رہے تھے گو وہ مرتد ہونے والے صحابی نہ تھے لیکن بہرحال وہ قریب کے مسلمان تھے اور انہوں نے خدا تعالیٰ کی تائیدات اور اس کی نصرتوں کے نشانات دیکھے ہوئے تھے۔لیکن باوجود اس کے کہ انہوں نے تازہ بتازہ