تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 251 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 251

بھینس مر جائے، کل اس کے گھر میں چوری ہو جائے، پر سوں اس کا کتا مر جائے، اترسوں اس کا گھوڑا ہلاک ہوجائے، اگلے روز کسی عزیز کی موت ہو جائے تو اس وقت اس کے دل میں کتنی سخت گھبراہٹ پیدا ہو گی۔کئی کم ایمان والے بھی یہ حالت دیکھ کر سمجھنے لگ جائیں گے کہ اب ہمیں خدا تعالیٰ کی طرف سے گناہوں کی سزا مل رہی ہے لیکن اگر آج کسی کو سو روپیہ مل جائے،دوسرے دن دو سو روپیہ مل جائے، تیسرے دن تین سو روپیہ مل جائے، چوتھے دن ایک مربع زمین مل جائے، پانچویں دن ایک گھوڑا انعام میں مل جائے، چھٹے دن گورنمنٹ کی طرف سے کوئی خطاب مل جائے تو اس کے دل کے کسی گوشہ میں بھی یہ خیال نہیں آئے گا کہ میں کہیں ہلاک نہ ہو جاؤں کہیں یہ چیزیں میری بربادی کا باعث نہ بن جائیں حالانکہ جس طرح مصائب کے ہجوم کے وقت اس کی ہلاکت اور گرنے کا امکان ہوتا ہے اسی طرح نعمتوں کے ملنے پر اس کی ہلاکت اور گرنے کا امکان ہوتا ہے۔جس طرح وہ چیزیں خدا تعالیٰ کے عذاب کو قریب کر کے دکھانے لگ جاتی ہیں اسی طرح بسا اوقات یہ چیزیں انسان کو اس لئے ملتی ہیں کہ پتہ لگایا جاتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ سے کیسا تعلق رکھتا ہے۔درحقیقت دولت کمانا منع نہیں۔بشرطیکہ وہ دین میں حارج نہ ہو۔صرف دولت کے ساتھ محبت کرنا یا اس کا ناجائز استعمال منع ہے ورنہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے صحابہؓ کے پاس ویسی ہی دولتیں تھیں جیسے آج کل بڑے بڑے امراء کے پاس ہوتی ہیں۔حضرت عبدالرحمٰن بن عوف کے متعلق تاریخوں میں آتا ہے کہ ان کی وفات کے بعد اڑھائی کروڑ روپیہ کے برابر ان کی جائیداد نکلی۔اس وقت کا اڑھائی کروڑ روپیہ آج کل کے تیس چالیس کروڑ روپیہ کے برابر بن جاتا ہے۔لیکن اس کے باوجود ان کا کھانا پینا ویسا ہی تھا جیسے عام مسلمانوں کا تھا وہ اپنی آمدنی کے متعلق کوشش کرتے تھے کہ اسے خدا تعالیٰ کے رستہ میں صرف کر دیں۔ان کی اولاد نے آگے ایسا کیا یا نہیں یہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے لیکن وہ اپنی زندگی میں بلادریغ خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنا روپیہ خرچ کرتے رہتے تھے۔تو کسی کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خیر کا ملنا بھی ایک آزمائش ہوتی ہے۔پھر صاحب مفردات لکھتے ہیں وَاِذَا قِیْلَ ابْتَلٰی فُلَانٌ کَذَا وَابْلَاہُ فَذَالِکَ یَتَضَمَّنُ اَمْرَیْنِ یعنی جب یہ کہا جائے کہ فلاں شخص نے فلاں کا اس اس رنگ میں امتحان لیا تو اس کے دو معنے ہو سکتے ہیں۔اَحَدُھُمَا تَعَرُّفُ حَالِہٖ وَالْوُقُوْفُ عَلٰی مَا یُـجْھَلُ مِنْ اَمْرِہٖ۔ایک تو یہ کہ اس کا اندرونہ معلوم کیا اور جو حقیقت پوشیدہ تھی وہ ظاہر کی۔وَالثَّانِیْ ظُھُوْرُ جَوْدَتِہٖ وَ رَدَاءَتِہٖ دوسرے معنے یہ ہوتے ہیں کہ اس کے اندرونہ کو دنیا پر ظاہر کیا جائے خبث ہو تو اس کا خبث ظاہر ہو جائے اور اگر نیکی ہو تو نیکی ظاہر ہو جائے۔گویا ایک تو جاننے کا یہ مفہوم ہوتا ہے کہ ہمیں خود کسی چیز کی حقیقت کا علم ہو جائے۔مگر ایک معنے یہ ہوتے ہیں کہ کسی دبی ہوئی چیز کو ابھار دیا جائے اور اس کی جودت یعنی اس کی