تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 242
ایک اپنی کثرت کی وجہ سے۔دوسرے بڑے بڑے جرائم پر مشتمل ہونے کی وجہ سے۔جب کسی قوم میں کثرت سے جرائم پائے جائیں اور پھر وہ جرائم ایسے ہوں جو نہایت سنگین ہوں اور بڑی بڑی خطرناک برائیوں پر مشتمل ہوں تو اس قوم کی تباہی اور بربادی کی ساعت تو بالکل ہی قریب آ جاتی ہے۔اَکْـثَـرُوْا فِیْھَا الْفَسَادَ کی آیت کو صرف فرعون اور اس کی قوم پر بھی چسپاں کیا جا سکتا ہے اور عاد اور ثمود اور فرعون تینوں پر بھی اس کو چسپاں کیا جا سکتا ہے۔زیادہ مناسب یہی ہے کہ اَکْـثَـرُوْا فِیْھَا الْفَسَادَ کو تینوں قوموں کے ساتھ لگایا جائے گو صرف فرعون اور اس کی قوم کے ساتھ بھی لگ سکتا ہے۔فساد بڑے جرائم کے لئے بولا جاتا ہے اور اَکْـثَـرُوْا فِیْھَا الْفَسَادَ کہہ کر اس آیت میں بتایا ہے کہ ان لوگوں نے بڑے بڑے جرم بھی کئے اور پھر کثرت سے کئے۔مثلاً ان اقوام میں شرک کی خطرناک وبا تھی اور پھر کثرت سے شرک پھیلا ہوا تھا اور اگر شرک کے علاوہ اور جرائم بھی لئے جائیں تو معنے یہ ہوں گے کہ وہ شرک بھی کرتے تھے اور دوسری خرابیاں بھی ان میںپائی جاتی تھیں۔مثلاً ظلم کر لینا یا دوسروں کا حق مار لینا۔بہرحال اللہ تعالیٰ فرماتا ہے انہوں نے فساد کو انتہا تک پہنچا دیا تھا۔عاد و ثمود کی تباہی کے ساتھ فرعون کی تباہی کا ذکر کرنے میں حکمت یہاں تین قوموں کو مثال کے طور پر بیان کیا گیا ہے عا۱د، ثمو۲د اور فرعو۳ن کی قوم کو۔عاد اور ثمود یہ دونوں قومیں عرب کی تھیں اور فرعون کی قوم مصر سے تعلق رکھتی تھی۔یہ تین مثالیں اللہ تعالیٰ نے بلاوجہ بیان نہیں کیں بلکہ اس لئے بیان کی ہیں کہ یہاں دو زمانوں کی خبر دی گئی تھی۔ایک اس زمانہ کی جس میں مکہ والوں کے مظالم کی وجہ سے مسلمانوں پر دس۱۰ تاریک راتیں آنے والی تھیں اور ایک زمانہ مسیح موعودؑ کی۔پہلی لیالی کا موجب چونکہ عرب لوگ تھے اور عاد اور ثمود ان کے وطن کے لوگ تھے اس لئے اللہ تعالیٰ ان کی مثال ان کے سامنے پیش کرتا ہے اور فرماتا ہے تمہارے ملک میں دو بڑی بڑی حکومتیں گذر چکی ہیں ایک تمہارے جنوب میں تھی اور دوسری تمہارے شمال میں تھی۔ان دونوں کے حالات پر غور کرو اور سوچو کہ جب ان لوگوں نے انبیاء کا مقابلہ کیا اور فسادات کو انتہا تک پہنچا دیا تو اللہ تعالیٰ نے کس طرح ان کا نام و نشان تک مٹا دیا۔باجود اس کے کہ یہ قومیں بڑی طاقت رکھتی تھیں پھر بھی جب انبیاء کے مقابلہ میں کھڑی ہوئیں خدا تعالیٰ نے ان کو تباہ و برباد کر دیااور ان کی طاقت ان کے کچھ بھی کام نہ آئی۔تمہاری تو ان کے مقابلہ میں کوئی نسبت ہی نہیں پھر کیوں تم ان کے حالات سے عبرت نہیں پکڑتے اور کیوں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقابلہ کررہے ہو۔اگر تم نے یہی طریق جاری رکھا تو جو سلوک ہم نے عاد اور ثمود سے کیا تھا وہی تمہارے ساتھ کریں گے۔تم مت سمجھو کہ