تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 241 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 241

قدیم مصری عمارتیں بہت بلند ہیں اہرام مصر اپنی بلندی اور شان، دنیا میں اپنی نظیر آپ ہیں۔دوسرے معنے اس کے یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ وہ خیموں والا تھا۔مراد یہ ہے کہ وہ ایک متمدن ملک کا بادشاہ تھا اس میں آمدورفت کے لئے بڑی بڑی سڑکیں تھیں اور کشتیوں کے ذریعہ دور دور سفر ہو سکتا تھا اس وجہ سے بادشاہ ہمیشہ ملک میں دَورہ کرتا رہتا تھا۔اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ فرعون مصر کے وقت میں ملک بہت متمدّن ہو گیا تھا۔وہاں ہر قسم کی سہولتیں لوگوں کو میسر تھیں اور ان کی طرز رہائش بادیہ نشین لوگوں کی طرح نہیں رہی تھی بلکہ وہ لوگ بڑی بڑی عمارتیں بناتے تھے سڑکیں تیار کرتے تھے اور بادشاہ دورہ کر کے ملک کے حالات دیکھتا رہتا تھا۔جن ملکوں میں عمارتوں کا رواج نہ ہو۔اگر ان کے بادشاہ کی نسبت کہا جائے کہ وہ ذِی الْاَوْتَادِ تھا تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ گو وہ بادیہ نشین تھا مگر بڑی طاقت والا تھا۔لیکن جب کسی شہر ی قوم کے متعلق ہم یہ الفاظ استعمال کریں گے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ وہ قوم متمدن تھی۔آمدورفت کے لئے ملک میں بڑی بڑی سڑکیں تھیں۔اسی طرح دریا کے راستے کھلے تھے اور بادشاہ اور مختلف حکام کشتیوں کے ذریعہ دَورے کرتے رہتے تھے۔پھر اَوْتَاد کے معنے رؤسا کے بھی ہوتے ہیں۔اس لحاظ سے آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ وہ صرف بادشاہ ہی نہیں تھا بلکہ شہنشاہ تھا۔بڑے بڑے بادشاہ اور نواب اس کے ماتحت تھے اور وہ اپنی اپنی جگہ بادشاہ سمجھے جاتے تھے او ر لوگوں پر ان کو حکومت حاصل تھی۔ذِی الْاَوْتَادِ کے ایک معنے جبلی حکومت کے بھی ہیں اور فِرْعَوْنَ ذِی الْاَوْتَادِ کہہ کر بتایا گیا ہے کہ اَوْتَادُ الْاَرْضِ یعنی جبال بھی اس کے ماتحت تھے یعنی اس کے زمانہ میں مصر کا پھیلاؤ بہت زیادہ تھا۔یہاں تک کہ خرطوم وغیرہ کے علاقے یا ایبے سینیا کے کچھ علاقے جو اب مصر سے باہر ہیں وہ بھی اس کے ماتحت ہوتے تھے۔چنانچہ پرانے آثار اب اس کی تصدیق کر رہے ہیں کہ مصری حکومت کا دائرہ بہت وسیع تھا اور بعض پہاڑی علاقے بھی اس کے اندر شامل تھے۔فَاَكْثَرُوْا فِيْهَا الْفَسَادَ۪ۙ۰۰۱۳ جس کے نتیجہ میں انہوں نے ان (شہروں) میں بے حد فساد پیدا کر دیا تھا۔تفسیر۔یوں تو ہر برائی قابلِ نفرت ہے مگر د۲و وجوہ سے برائیاں نہایت بھیانک شکل اختیار کر لیتی ہیں