تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 243
ان مظالم کے نتیجہ میں تم کامیاب ہو جاؤ گے جس طرح آج مسلمانوں پر تم مختلف قسم کے مظالم ڈھا رہے ہو اور تم نے ان کے دنوں کو بھی رات بنا دیا ہے۔اسی طرح عاد اور ثمود نے بھی بڑی بڑی شرارتیں کی تھیں اور پھر حد سے زیادہ شرارتیں کی تھیں مگر پھر بھی وہ ناکام رہے حدیثوں سے پتہ لگتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے بڑا جرم کسی نبی کو قتل کرنا ہے ان لوگوں نے بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا ارادہ کیا جیسا کہ فرماتا ہے وَاِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِيُثْبِتُوْكَ اَوْ يَقْتُلُوْكَ اَوْ يُخْرِجُوْكَ١ؕ وَ يَمْكُرُوْنَ وَ يَمْكُرُ اللّٰهُ١ؕ وَاللّٰهُ خَيْرُ الْمٰكِرِيْنَ (الانفال:۳۱) پھر مکہ والے شرک میں بھی مبتلا تھے اور شرک وہ گناہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ظلم عظیم قرار دیا ہے جیسا کہ فرماتا ہے اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ (لقمان:۱۴) پھر اَکْـثَـرُوْا فِیْھَا الْفَسَادَ کے دوسرے معنوں کے مطابق کفار مکہ نے نہ صرف بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب کیا بلکہ مظالم کو انتہاء تک پہنچا دیا۔جو شخص بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم پر ایمان لایا انہوں نے اس کو دکھ دینا شروع کر دیا بلکہ وہ تلاش کر کر کے مسلمانوں کو پکڑتے اور ان کو بڑی بے دردی سے مارتے پیٹتے اور مختلف رنگوں میں عذاب دیتے یہاں تک کہ کئی مسلمان بھاگ کر ایبے سینیا چلے گئے مگر ان کا جوش پھر بھی نہ تھما اور وہ حبشہ تک محض اس لئے گئے کہ مسلمانوں کو پکڑ کر واپس لائیں۔اور ان کو اپنے مظالم کا تختۂ مشق بنائے رکھیں(السیرۃالنبویۃ لابن ھشام زیر عنوان ارسال قریش الی الحبشۃ فی طلب المھاجرین الیھا)۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے مکہ والو! پہلی قومیں بھی تمہارے ملک میں ایسی گذر چکی ہیں جنہوں نے فسادات کو انتہا تک پہنچا دیا تھا۔تم یہ نہ سمجھو کہ تمہاری یہ سرکشی اور ظلم تمہارے حق میں مفید ہو گا۔وہ قومیں بھی اسی خیال میں مبتلا رہی تھیں کہ ہم خوب ظلم ڈھا رہی ہیں مگر آخر ایک دن آیا کہ وہ تباہ وبرباد کر دی گئیں۔اسی طرح تم ایک دن خدا تعالیٰ کے غضب کا نشانہ بن جاؤ گے اور عاد اور ثمود کی طرح دنیا سے مٹ جاؤ گے۔فرعون کی تباہی کے ذکر میں مسیح موعودؑ کے زمانہ میں اس جیسا واقعہ ہونے کی پیشگوئی اس کے بعد فرعون کا ذکر کیا۔میرے نزدیک اس میں مسیح موعودؑ کے زمانہ کی خبر ہے۔میں ابھی تک تفصیل سے نہیں بتا سکتا کہ کیوں؟ مگر دو باتیں میں بیان کر دیتا ہوں جن کی بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ اس مثال کا مسیح موعودؑ کے زمانہ کے ساتھ تعلق ہے اور وہ دو باتیں یہ ہیں۔کہ اوّل رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم فرماتے ہیں کہ محرم کی دسویں رات ایک خاص شان اور عظمت رکھتی ہے کیونکہ اس دن میں خدا تعالیٰ نے موسٰی کو فرعون سے نجات دی اور میں امید کرتا ہوں کہ آئندہ بھی ایسا ہی معاملہ میری امت میں ایک دفعہ ہوگا اور میری امت کو اس دن ایک عذاب سے نجات ملے گی۔گو بظاہر یہاں فرعون اور اس کے مظالم سے نجات کے الفاظ ہیں مگر ان میں یہ اشارہ پایا جاتا