تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 239
ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس نمونہ کو ہر وقت اپنے سامنے رکھو کہ آپ حجر مقام پر اترے مگر تھوڑی دیر کے بعد گھبرا کر کھڑے ہو گئے اور اپنے صحابہؓ سے فرمایا کہ چلو یہاں سے یہ وہ مقام ہے جہاں خدا کا عذاب نازل ہوا تھا۔ثمود قوم کے نبی ثمود قوم کے نبی حضرت صالحؑ تھے۔صالح عربی زبان کا لفظ ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت صالح عرب کے ہی ایک نبی تھے۔قرآن کریم سے یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ یہ لوگ عاد کے بعد ہوئے ہیں۔چنانچہ فرماتا (ہے) وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ عَادٍ (الاعراف:۷۵) اس وقت کو یاد کرو جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں عاد کے بعد ان کا قائم مقام بنایا۔اس سے یہ بھی استدلال ہوتا ہے کہ عاد بھی عرب ہی تھے۔ثمود کے متعلق کتبوں کی دستیابی آثار قدیمہ کی تلاش و جستجو کے سلسلہ میں قوم ثمود کے کتبے بھی دستیاب ہوئے ہیں اور یوروپین لوگوں نے ان کتبوں کو تسلیم کیا ہے یہ کتبے عرب کے شمالی حصوں سے ملے ہیں جس سے ان عرب جغرافیہ نویسوں کی تائید ہوتی ہے جن کا یہ خیال ہے کہ ثمود قوم جنوب سے ہجرت کر کے شمال کی طرف آئی تھی یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ کچھ مصر کی طرف بھی بڑھے تھے۔بہرحال قومِ ثمود عاد کے بعد ہوئی ہے اور جب کہ عاد کو نوحؑکی قوم کا قائم مقام قرار دیا گیا ہے تو اس سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ حضرت نوحؑ بھی عرب کے کسی علاقہ میں ہی مبعوث ہوئے تھے اور پھر اس سے عربی زبان کے ام الالسنہ ہونے کا بھی ایک ثبوت مل گیا۔عربی کے اُم الالسنہ ہونے کا ایک ثبوت قرآن کریم دعویٰ کرتا ہے کہ ابتدائی زبان عربی تھی اور یہی زبان باقی تمام زبانوں کی اُم ہے یہ علیحدہ بات ہے کہ دشمن اس بات کو تسلیم نہ کرے لیکن قرآن کریم یہی کہتا ہے کہ ابتدائی نسل کی زبان عربی تھی۔اس کا ثبوت اس امر سے بھی ملتا ہے کہ قرآن کریم حضرت نوحؑکو آدم کے معاً بعد قرار دیتا ہے۔اب اگر نوحؑتک یہ سلسلہ پہنچ جائے اور ثابت ہو جائے کہ حضرت نوحؑعربی نسل سے تعلق رکھتے تھے تو ساتھ ہی عربی زبان کے اُم الالسنہ ہونے کا مسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے۔یہ بات بتائی جا چکی ہے کہ قوم ثمود، عاد کی قائم مقام تھی اور عاد، نوحؑکی قوم کی قائم مقام تھی اور چونکہ ثمود اور عاد دونوں عربی اقوام ہیں اس لئے معلوم ہوا کہ حضرت نوحؑبھی عرب کے کسی علاقہ میں ہی مبعوث ہوئے تھے اور تاریخ سے بھی حضرت نوحؑکا مقام عراق میں ہی ثابت ہوتا ہے جب حضرت نوحؑتک یہ زبان پہنچ گئی تو نوحؑکے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ وہ آدمؑ کے معاً بعد ہوئے بتاتا ہے کہ ابتدائے عالم کی زبان عربی تھی کیونکہ جب نسل انسانی کا آغاز عرب سے مانا جائے تو لازماً اس ملک کی زبان کو بھی اُم الالسنہ تسلیم کرنا پڑے گا بہرحال عرب اور اس کے متعلقہ علاقہ سے ابتدائے تہذیب کے وابستہ ہونے کا دعویٰ ان آیات سے مستنبط ہوتا ہے اور