تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 240
تاریخی واقعات اس دعویٰ کی تائید کرتے ہیں۔ثمود کا ذکر قرآن کریم میں ۲۱ جگہ آیا ہے۔(۱) ہود (۲) شعراء (۳) قمر (۴) حاقہ(۵) شمس (۶) بنی اسرائیل (۷) اعراف (۸) نمل (۹) فُصِّلت (۱۰) ذاریات (۱۱) توبہ (۱۲) ابراہیم (۱۳) حج (۱۴) مومن (۱۵) ص (۱۶) فرقان (۱۷) عنکبوت (۱۸) ق (۱۹) فجر (۲۰) بروج (۲۱)نجم (ثمود اور صالحؑ اور ان کے واقعہ کے لئے دیکھئے تفسیر کبیر جلد چہارم صفحہ۲۹۳ تا ۳۰۷ زیر تفسیر سورۃ ہود آیت ۶۲تا ۶۹) وَ فِرْعَوْنَ ذِي الْاَوْتَادِ۪ۙ۰۰۱۱ اور فرعون (کے متعلق بھی تجھے کچھ معلوم ہے) جو پہاڑوں کا مالک تھا۔الَّذِيْنَ طَغَوْا فِي الْبِلَادِ۪ۙ۰۰۱۲ (کیا تجھے) ان سب لوگوں کا (حال معلوم ہے) جنہوں نے شہروں میں سرکشی کر رکھی تھی حل لغات۔اَوْتَادٌ۔اَوْتَادٌ وَتَدٌ کی جمع ہے اور وَتَدٌ اس کھونٹے یا لکڑی کے اس کیلے کو کہتے جو دیوار یا زمین میں گاڑا جاتا ہے اَوْتَادُ الْاَرْضِ پہاڑوں کو کہتے ہیں۔اَوْتَادُ الْبِلَادِکے معنے رؤسا کے ہوتے ہیں اَوْتَادُ الْفَمِ دانتوں کو کہا جاتا ہے (اقرب) اس لحاظ سے آیت کے کئی معنے ہو جائیں گے یہ بھی کہ وہ فرعون جو خیموں والا تھا۔یا یہ کہ وہ فرعون جو پہاڑوں والا تھا یا بڑی بڑی عمارتوں والا تھا (بلند وبالا اور اونچی عمارت پر بھی وَتَد کا لفظ استعمال کر لیا جاتا ہے کیونکہ اس کی بنیاد زمین میں نہایت گہری کھودی جاتی ہے) طَغَوْا۔طَغَوْا: طَغٰی سے جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے۔اور طَغٰی کے معنے ہوتے ہیں اَسْـرَفَ فِی الْمَعَاصِیْ والظُّلْمِ۔کہ ظلم اور گناہوں میں حد سے بڑھ گیا (اقرب) پس طَغَوْا کے معنے ہوئے وہ ظلم اور گناہوں میں حد سے بڑھ گئے۔تفسیر۔ذِی الْاَوْتَادِ کے تین معنے اس آیت میں فرعون اور اس کی قوم کے تمدن کا نقشہ کھینچا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اس قوم کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ وہ بڑی بڑی اونچی عمارتیں بنایا کرتی تھی۔یہ لازمی بات ہے کہ جو بھی اونچی عمارت بنائی جائے گی اس کی بنیاد باقی عمارات کی نسبت زیادہ گہری رکھنی پڑے گی چنانچہ