تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 238
جائے حالانکہ وہ ایام سخت تنگی کے تھے۔صحابہ کی مالی اور اقتصادی حالت سخت کمزور تھی۔خود صحابہ بیان کرتے ہیں کہ ہم بعض دفعہ کھجوروں کی گٹھلیاں کھا کھا کر گذارہ کیا کرتے تھے(مسلم کتاب الصید و الذبائح باب اباحۃ میتات البحر )۔اس تنگی کے باوجود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منوں آٹا پھینکوا دیا اور اس بات کی ذرا بھی پرواہ نہ کی کہ لشکر کا کیا بنے گا۔اس غزوہ میں تین ہزار صحابی آپ کے ساتھ تھا۔اگر فی کس ایک پاؤ آٹے کا بھی اندازہ لگایا جائے تو قریباً آٹھ سو سیر یا بیس من کے قریب آٹا ایسے زمانہ میں جب کہ ان کے پاس کھانے پینے کے وافر سامان نہیں ہوا کرتے تھے حُکماً پھینکوا دیا گیا۔یہ ہے وہ خشیت جو لوگوں کے دلوں میں ہونی چاہیے اور جس کا اسلام ہر مومن سے تقاضا کرتا ہے۔مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ خود ہماری جماعت میں سے بعض لوگوں کی یہ حالت ہے کہ جب وہ مقبرہ بہشتی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مزار پر دعا کرنے کے لئے جاتے ہیں تو ان میں سے بعض درختوں کا پھل توڑ کر کھانے لگ جاتے ہیں۔گویا بجائے اس کے کہ مقبرہ بہشتی میں جا کر ان کے دلوں میں خدا کا خوف پیدا ہواور دعا پر وہ زور دیں کھانے پینے کا خیال ان کے دل میں پیدا ہو جاتا ہے۔اسی طرح مساجد میں اس قسم کی باتیں ہوتی ہیںاور اس قدر شور بعض لوگوں نے مچایا ہوا ہوتا ہے کہ تعجب آتا ہے کیوں ابھی تک لوگوں کو اتنی موٹی بات بھی معلوم نہیں ہوئی کہ انہیں مساجد کا احترام کرنا چاہیے اور لغو باتوں کی بجائے ذکر الٰہی میں اپنا وقت گذارنا چاہیے۔مومن کے ایمان کی سچی علامت یہی ہے کہ جب وہ کسی ایسے مقام سے گذرے جو خدا تعالیٰ کے کسی عذاب کو یاد دلانے والا ہو تو وہاں اس کے اعضاء اور جوارح سے کسی قسم کی بےباکی ظاہر نہ ہوتی ہو۔بلکہ اللہ تعالیٰ کا خوف اور اس کی خشیت اس دل پر طاری ہواور وہ اس عذاب کو اپنی آنکھوں سے اس طرح دیکھ رہا ہو جس طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر میں اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوتے دیکھا۔اسی طرح جب وہ مسجد میں آئے یا کسی ایسی جگہ جائے جہاں خدا تعالیٰ نے اپنا کوئی نشان ظاہر کیا ہو تو وہاں فضول اور لغو باتیں نہ کرے بلکہ ذکر الٰہی اور خدا تعالیٰ کی یاد کرے۔نمازیں پڑھے دعاؤں میں مشغول رہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل کو زیادہ سے زیادہ جذب کرنے کی کوشش کرے یا اگر باتیں ہی کرنی ہوں تو دین کی باتیں کرے۔جیسے ہم اپنی مساجد میں جب بیٹھتے ہیں تو ہمیشہ دین کی باتیں کرتے ہیں یا ایسی دنیوی باتیں بھی کر لیتے ہیں جو دین سے تعلق رکھتی ہیں مگر یہ نہیں ہونا چاہیے کہ مساجد میں بیٹھ کر سودا سلف کی باتیں شروع کر دی جائیں یا گھر کے جھگڑے بیان ہونے لگ جائیںیا ایک دوسرے کی غیبت شروع ہو جائے یہ ساری باتیں سخت معیوب ہیں اور انسان کو خدا تعالیٰ کی نظر میں گناہ گار بنادیتی