تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 236 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 236

معنے ہوتے ہیں قَطَعَہٗ۔اس نے کپڑے کو پھاڑا۔اور جَابَ الصَّخْرَۃَ کے معنے ہوتے ہیں خَرَقَھَا۔اس نے پتھر کو کھودا۔وَمِنْہُ فِی الْقُرْاٰنِ وَثَـمُوْدَ الَّذِیْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ اَیْ قَطَعُوْہُ وَاتَّـخَذُوْہُ مَنَازِلَ یعنی قرآن کریم میں جو یہ آتا ہے کہ وَثَـمُوْدَ الَّذِیْنَ جَابُوْا الصَّخْرَ بِالْوَادِ (اقرب) اس کے معنے یہ ہیں کہ وہ پتھروں کو تراش کر یا ان کو کاٹ کاٹ کر عمارتیں بناتے تھے گویا اس آیت کے دونوں معنے ہو سکتے ہیں۔یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ وہ چٹانوں کو کاٹ کاٹ کر پتھر لاتے اور اپنے لئے پتھروں کی عمارتیں بناتے اور یہ بھی معنے ہوسکتے ہیں کہ وہ پتھریلی چٹانوں کو کاٹ کاٹ کر ان میں عمارتیں تیار کیا کرتے تھے۔اَلصَّخْرُ۔اَلصَّخْرُ: اَلصَّخْرَۃُ کی جمع ہے اور اَلصَّخْرَۃُ کے معنے ہیں اَلْـحَجَرُ الْعَظِیْمُ الصُّلْبُ۔ایسا بڑا پتھر جو سخت بھی ہو (اقرب) پس اَلَّذِیْنَ جَابُوْا لصَّخْرَ بِالْوَادِ کے معنے ہوئے وہ لوگ جنہوں نے پہاڑ کاٹ کر اور پتھر اکٹھے کر کر کے وادی میں اپنے مکان بنائے یا پہاڑی وادی میں انہوں نے پہاڑوں کو تراش تراش کر عمارتیں بنائیں۔تفسیر۔ثمود قوم کی خصوصیت ثمود قوم کی یہ خصوصیت تھی کہ وہ پہاڑوں کو تراش تراش کر اپنے لئے عمارتیں بنایا کرتی تھی۔اس قوم کا دارالحکومت حجر تھا جو مدینہ منورہ اور تبوک کے درمیان ہے اور اس وادی کو جس میں حجر واقعہ ہے وادیٔ قریٰ کہا جاتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوۂ تبوک پر جا رہے تھے اور ہزاروں صحابہؓ آپ کے ساتھ تھے۔چلتے چلتے راستہ میں حجر شہر آیا اور وہاں تھوڑی دیر کے لئے آپ نے پڑاؤ کیا۔صحابہؓ نے یہ دیکھا تو انہوں نے اپنے آٹے نکالے اور گوندھ کر کھانا پکانے لگ گئے۔ابھی تھوڑی دیر ہی گذری تھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا کہ یہ وہ مقام ہے جہاں خدا تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تھا اس لئے یہاں کا پانی کوئی نہ پئے اور نہ کسی اور مصرف میں لائے چنانچہ حدیث کے الفاظ یہ ہیں۔عَنِ ابْنِ عُـمَرَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَزَلَ الْـحِجْرَ فِی غَزْوَۃِ تَبُوْکَ اَمَرَھُمْ اَنْ لَّایَشْـرَبُوْا مِنْ بِئْرِھَا وَلَا یَسْتَقُوْا مِنْـھَا فَقَالُوْا قَدْ عَـجَنَّا مِنْـھَا وَاسْتَقَیْنَا فَاَمَرَھُمْ اَنْ یَّطْرَحُوْا ذٰلِکَ الْعَجِیْنَ وَیُـھْرِیْقُوْا ذٰلِکَ الْمَاءَ (الصحیح البخاری کتاب احادیث الانبیاء باب قول اللہ عز وجل وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ تبوک کو جاتے ہوئے حجر مقام پر اترے تو آپ نے صحابہ کو حکم