تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 237
دے دیا کہ نہ تو وہاں کے کنوؤں کا پانی خود پئیں اور نہ پینے کے لئے ساتھ لیں۔تو لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ہم نے تو اس پانی سے آٹے گوندھ لئے ہیں اور پانی بھی لے لیا ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے گوندھے ہوئے آٹے کو پھینکوانے اور جمع شدہ پانی کو گرانے کا حکم دے دیا۔آنحضرتؐکا ثمود کے مقام پر اترنا دیکھو اللہ تعالیٰ کے انبیاء خدا تعالیٰ کے غضب سے کس قدر ڈرا کرتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ وہ لوگ مر گئے جن پر غضب نازل ہوا تھا اور وہ شہر اجڑ گیا جو اس غضب کا نشانہ بنا تھا۔سالوں کے بعد سال اور صدیوں کے بعد صدیاں گذرتی چلی گئیں مگر اس قدر مدت دراز گذرنے کے باوجود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حالت تھی کہ وہ آج بھی اس مقام پر خدا تعالیٰ کا غضب نازل ہوتے دیکھ رہے تھے آج بھی اس مقام پر خدا تعالیٰ کے فرشتوں کو لعنت کرتے دیکھ رہے تھے آپ نے اتنا بھی پسند نہ کیا کہ اس جگہ کے پانی سے گندھا ہوا آٹا صحابہ استعمال کریں۔آپ نے فوراً حکم دیا کہ اپنے گندھے ہوئے آٹے کو پھینک دو، سواریوں پر چڑھ جاؤ اور فوراً اس مقام سے نکل جاؤ کہ یہ وہ مقام ہے جو خدا تعالیٰ کے غضب کا نشانہ بنا تھا۔اسی طرح جہاں خدا تعالیٰ کی رحمت کا کوئی نشان نازل ہو انبیاء ان مقامات کا نہایت ادب کرتے ہیں اور جب بھی ان جگہوں میں جاتے ہیں ان کے دلوں پر خدا تعالیٰ کی خشیت طاری ہو جاتی ہے اور سوائے خدا تعالیٰ کی ذات کے وہ کسی اور طرف توجہ نہیں کرتے۔اس کے مقابلہ میں لوگوں کی یہ حالت ہوتی ہے کہ نہ خدا تعالیٰ کے غضب کے نشانات ان کے دلوں کو نرم کرتے ہیں اور نہ اس کی رحمت کے نشانات ان کے دلوں میں اس کی محبت پیدا کرتے ہیں۔مثلاً مساجد خدا کا گھر کہلاتی ہیں اور مساجد وہ مقام ہیں جو خدا تعالیٰ کی عبادت کے لئے مخصوص ہیں مگر لوگ جب مساجد میں آتے ہیں تو وہ ہزار قسم کی بکواس کرتے ہیں، آپس میں دنیوی معاملات پر لڑتے جھگڑتے ہیں، ایک دوسرے کو جوش میں گالیاں بھی دے دیتے ہیں، غیبت بھی کر لیتے ہیں اور انہیں ذرا بھی یہ احساس نہیں ہوتاکہ وہ خدا کے گھر میں بیٹھ کر کس قسم کی شرمناک حرکات کر رہے ہیں۔انہیں تو چاہیے تھا کہ وہ جب تک مساجد میں رہتے اللہ تعالیٰ کے ذکر سے ان کی زبانیں تر رہتیں مگر وہ بجائے ذکر الٰہی کرنے کے دنیوی امور میں اپنے قیمتی وقت کو ضائع کر کے خدا تعالیٰ کی ناراضگی کے مرتکب بن جاتے ہیں تم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھو اور غور کرو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ کے غضب کے مقام کو کتنا برا جانا اور کس طرح اس سے نفر ت کا اظہار کیا کہ گندھا ہوا آٹا پھینکوا دیا اور یہ پسند نہ کیا کہ اس آٹے کا ایک لقمہ تک کسی صحابی کے اندر