تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 235
النَّجْمُ الثَّاقِبُ والے معنے مراد ہیں۔یہ قرآن کریم کا دستور ہے کہ وہ جہاں معنوں کی تعیین کرنا چاہتا ہے مَاۤ اَدْرٰىكَ کے الفاظ لے آتا ہے لیکن دوسرے مقامات پر انسان کو مختلف معنوں کی اجازت ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ کہتا ہے ہم تمہاری عقل پر اعتبار کرتے ہیں عقل سے کام لو اور صحیح معنے کرو۔پس جہاں مختلف معانی سے کوئی خلل پیدا نہیں ہوتا اللہ تعالیٰ بھی کوئی تعیین نہیں کرتا لیکن جہاں کسی خلل کا امکان ہو وہاں اللہ تعالیٰ اپنے مخصوص معنے بتا دیتا ہے جیسے اَلْقَارِعَۃُ۔مَاالْقَارِعَۃُ کے بعد وَمَاۤ اَدْرٰىكَ مَاالْقَارِعَۃُ کہہ کر بتا دیا کہ قارعہ کے اگرچہ لغت میں کئی معنے ہیں لیکن ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ اس جگہ ان کئی معنوں میں سے صرف فلاں معنے مراد ہیں دوسرے معنے کرنے جائز نہیں ہیں۔غرض جہاں شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی یا ایمانیات میں کوئی نقص واقعہ ہونے کا احتمال نہیں ہوتا قرآن کریم آیات کے معانی کو محاورۂ زبان اور عقل صحیح پر چھوڑ دیتا ہے۔لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُھَا فِی الْبِلَادِ میں بھی کوئی ایسی بات نہیں جس کی کسی خاص پیشگوئی یا ایمانیات پر زد پڑتی ہو اس لئے قرآن کریم نے عمومیت کے رنگ میں یہ ذکر کر دیا ہے کہ وہ لوگ بڑی طاقت والے تھے۔اب یہ ہمارا کام ہے کہ ہم اپنی عقل اور تاریخی معلومات کی بنا پر فیصلہ کریں کہ یہ بات اس وقت کے زمانہ کے لحاظ سے کہی گئی ہے یا ساری دنیا کے لحاظ سے۔عاد چونکہ بالکل ابتدائی زمانہ میں ہوئے ہیں اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہاں ساری دنیا کے مقابلہ میں ان کی فوقیت کا ذکر نہیں کیا گیا بلکہ صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ اپنے زمانہ کے لحاظ سے یا عرب کے لحاظ سے ان جیسی طاقتور قوم اور کوئی نہ تھی۔یہ قرآن کریم کی ایک خاص خوبی ہے کہ اس میں کئی تشریحات کو انسانی عقل پر چھوڑا گیا ہے تا کہ دماغی انحطاط واقعہ نہ ہو۔قرآن کریم لوگوں کو جاہل نہیں بناتا بلکہ جہاں کسی شبہ کا امکان ہو صرف اس کا ازالہ کرتا ہے اور جہاں ایمانیات میں کسی خطرہ کا امکان ہو اس کو پوری طرح ظاہر کر دیتا ہے تاکہ لوگ ٹھوکر نہ کھائیںاور ان کا ایمان محفوظ رہے۔وَ ثَمُوْدَ الَّذِيْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ۪ۙ۰۰۱۰ اور کیا ثمود کے متعلق بھی تجھے معلوم ہے ٭ جو وادی (القریٰ) میں پہاڑیوں کو کھودتے تھے۔حلّ لُغات۔جَابُوْا۔جَابُوْا: جَابَ سے جمع کا صیغہ ہے اور جَابَ الثَّوْب (یَـجُوْبُہٗ جَوْبًا) کے ٭نوٹ: ترجمہ میں ’’کیا تجھے معلوم ہے ‘‘کے الفاظ حسب قاعدہ بریکٹ میں نہیں رکھے گئے بلکہ ظاہر میں رکھے گئے ہیں کیونکہ اس کے بغیر اردو میں مفہوم واضح نہیں ہوسکتا تھا۔