تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 20
انسان کو ذاتی طور پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا تعلق پیدا ہو جائے گاکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے انوار اور آپؐکی برکات کو اپنے نفوس میں بھی دیکھنے لگ جائیں گے۔یہی وجہ ہے کہ آنے والے موعودؑ کے د۲و نام رکھے گئے تھے۔ایک مسیحؑ جو اس کے بدر ہونے کی علامت ہے اور دوسرا مہدیؑ جو اس کے طارق ہونے کی علامت ہے۔یہ د۲و نام اس کے دو مختلف کاموں کی طرف اشارہ کر رہے تھے اور بتا رہے تھے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نور اپنے اندر جذب کر کے لوگوں تک پہنچائے گا اور پھر لوگوں میں ایسی استعداد پیدا کر دے گا کہ ان کے تعلقات براہِ راست رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سے ہو جائیں گے۔پس وہ اپنے ایک کام کے لحاظ سے بدر ہو گا اور دوسرے کام کے لحاظ سے طارق ہو گا۔یہاں ایک سوال پیدا ہوتا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم تو کامل نبی ہیں اور آپؐپر وہ کلام نازل ہوچکا ہے جو آخری اور قطعی کلام ہے جیسا کہ پہلی سورۃ میں بھی بتایا گیا ہے کہ اِنَّہٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم پر جو کلام نازل ہوا ہے وہ قولِ فصل ہے اور قولِ فصل کے معنے ہوتے ہیں وہ کلام جو باقی تمام چیزوں کو قطع کر دیتا ہے یعنی ایسا کلام جو سب سے اعلیٰ اور فائق ہو وہ قولِ فصل کہلاتا ہے۔اسی طرح اس کے یہ بھی معنے ہوتے ہیں کہ وہ کلام جس کے بعد کسی اور کلام کی ضرورت نہیں رہتی۔جیسے قرآن مجید میں حضرت داؤد علیہ السلام کی نسبت آتا ہے وَشَدَدْنَا مُلْكَهٗ وَ اٰتَيْنٰهُ الْحِكْمَةَ وَ فَصْلَ الْخِطَابِ (صٓ:۲۱) یہاں فصل الخطاب کے معنے یہی ہیں کہ اس کا فیصلہ آخری تھا۔پس فصل کے معنے ہوئے وہ آخری اور کامل کلام جس کے بعد کسی اور کلام کی ضرورت نہیں رہتی۔ان معنوں کے لحاظ سے سوال پیدا ہوتا تھا کہ قرآن کریم جب قولِ فصل ہے یعنی آخری اور کامل کلام ہے جس کے بعد کسی اور کلام کی ضرورت نہیں رہتی تو پھر آنے والے موعود کی کیا ضرورت ہے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی قولِ فصل ہے اور آپؐپر نازل شدہ شریعت اس قدر کامل ہے کہ اس کے بعد کسی اور شریعت کی دنیا کو ضرورت نہیں تو پھر آپؐکے بعد کسی اور الہام کی کیا ضرورت ہوئی۔پھر ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے فرما دیا تھا کہ وَمَا ھُوَ بِالْھَزْلِ یہ شریعت کمزور ہونے والی نہیں۔ھَزْلٌ کے معنے ضعیف اور ناطاقت اور کمزور اور ناکارہ کے ہوتے ہیں اِنَّہٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌ کے معنے تو یہ تھے کہ یہ ایسا کلام ہے جس کے بعد کسی اور کلام کی ضرورت نہیں۔اپنی ذات میں یہ کامل کلام ہے لیکن کامل تعلیم بھی چونکہ بعض دفعہ مٹ جایا کرتی ہے اس لئے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ وَمَا ھُوَ بِالْھَزْلِ یہ ضعیف اور ناکارہ ہونے والا کلام نہیں کہ تم یہ شبہ کر سکو کہ شائد یہ کلام بھی کسی دن مٹ جائے گا۔اگر محض قولِ فصل تک بات کو ختم کر دیا جاتا تو اس شبہ کا ازالہ نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ بعض کلام قولِ فصل تو ہوتے ہیں مگر بوجہ وقتی ہونے کے