تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 19

کی قسم کا ہی ہے۔کیونکہ مکی سورتوں میں متعدد مقامات پر پرانے انبیاء کا ذکر آتا ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام تو قریش کے جدِّ امجد تھے ان کے ذکر سے یہ قیاس کر لینا کہ مدینہ میں جا کر یہودیوں کی صحبت کے نتیجہ میں اسے بیان کیا گیا ہے انتہائی طور پر عقل سے گری ہوئی بات ہے۔اس سورۃ کے متعلق مسند احمد، مسلم اور دوسری کتبِ احادیث میں نعمان ابن بشیرؓ سے روایت آتی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم جمعہ اور عیدین کی نمازوں کی پہلی رکعت میں یہ سورۃ پڑھا کرتے تھے اور دوسری رکعت میں سورۃ الغاشیہ تلاوت فرمایا کرتے تھے بلکہ اگر عید اور جمعہ اکھٹے ہو جاتے تب بھی آپؐیہی د۲و سورتیں دونوں نمازوں میں پڑھا کرتے تھے۔ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ، دارقطنی، بیہقی اور حاکم میں ابی ابن کعبؓ سے روایت آتی ہے۔کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نمازِ وتر کی پہلی رکعت میں یہ سورۃ تلاوت فرماتے تھے دوسری رکعت میں سورۃ الکافرون اور تیسری رکعت میں سورۃ الاخلاص تلاوت فرمایا کرتے تھے۔(سنن ابی داؤد کتاب الصلاۃ باب ما یقرأ فی الوتر) حضرت علیؓ سے مسند احمد میں روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم اس سورۃ کو بہت محبوب سمجھتے تھے۔(مسند احمد بن حنبل بروایت حضـرت علی رضی اللہ عنہ) ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، حاکم اور بیقہی میں حضرت عائشہؓ سے بھی روایت آتی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم وتر کی پہلی رکعت میں یہ سورۃ دوسری رکعت میں سورۃ الکافرون اور تیسری رکعت میں سورۃ الاخلاص اور معوّذتین پڑھا کرتے تھے۔( ترمذی ابواب الوتر باب ماجاء ما یقرأ فی الوتر) سورۃ الاعلیٰ کا تعلق پہلی سورۃ سے اس سورۃ کا تعلق پہلی سورۃ سے بحرِ محیط کے مصنف تو یہ بتاتے ہیں کہ پہلی سورۃ میں ذکر تھا کہ انسان کی پیدائش اس اس طرح ہوئی ہے۔اس کا جواب کہ اسے اس طرح کس نے پیدا کیا ہے سورۃ الاعلیٰ میں دیا گیا ہے کہ اسے ربّ الاعلیٰ نے پیدا کیا ہے۔لیکن میرے نزدیک اس سورۃ کا پہلی سورۃ سے تعلق یہ ہے کہ اس سورۃ میں یہ مضمون بیان کیا گیا تھا کہ آنے والا موعود جہاں یہ خصوصیت رکھتا ہوگا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے نور کو اپنے اندر جذب کر کے اسے دوسرے لوگوں تک پہنچائے یعنی اس کی حیثیت بدر کی سی ہو گی اور وہ چودھویں کے چاندکی طرح دنیا میں اسلامی نور کو پھیلائے گا وہاں وہ طارق بھی ہو گا۔طارق کہتے ہیں صبح کے ستارے کو اور صبح کا ستارہ سورج کے طلوع کی طرف اشارہ کرتا ہے۔یعنی صرف یہی نہیں کہ اس کے ذریعہ سے لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھیں گے بلکہ اس پر ایمان لانے کی وجہ سے بنی نوع