تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 21

کچھ عرصہ کے بعد مٹ جاتے ہیں جیسے حضرت داؤد علیہ السلام کی نسبت اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اٰتَيْنٰهُ الْحِكْمَةَ وَفَصْلَ الْخِطَابِ ہم نے اسے حکمت اور فصل الخطاب دیا مگر اس کے باوجود وہ کلام مٹ گیا۔پس قولِ فصل سے یہ ثابت نہیں ہوتا تھا کہ قرآن کریم وقتی طور پر قولِ فصل ہے یا ہمیشہ کے لئے قولِ فصل ہے بلکہ یہ شبہ پیدا ہو سکتا تھا کہ آخری کلام کے معنے یہ کیوں نہ سمجھ لئے جائیں کہ قرآن کریم صرف اپنے زمانہ کے لئے کامل تھا اور بوجہ سابق کتب کو منسوخ کر دینے کے اس وقت کے لئے آخری تھا جیسا کہ بہائی کہتے ہیں جب نئی ضرورتیں پیدا ہوں گی اس وقت کوئی نئی کتاب آ جائے گی۔(God Passes: by Shoghi Effendi, page25) سورۂ اعلیٰ میں اس بات کا ذکر کہ قرآن مجید کی موجودگی میں اور الہام کی کیا ضرورت ہے اس شبہ کا ازالہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وَمَا ھُوَ بِالْھَزْلِ یہ ضعیف اور ناکارہ ہونے والا کلام نہیں۔اس کی ضرورت دنیا سے کبھی محو نہیں ہو گی اور یہ کتاب کبھی مٹ نہیں سکے گی۔پس مَا ھُوَ بِالْھَزْلِ نے بتا دیا کہ یہ کلام وقتی طور پر فصل نہیں بلکہ ہمیشہ کے لئے قولِ فصل ہے۔اور جب یہ کلام آخری کلام ہے کامل کلام ہے اور ساتھ ہی کمزور ہونے والا نہیں تو سوال پیدا ہو سکتا تھا کہ اس کلام کی موجودگی میں کسی اور کلام کی ضرورت ہی کیا ہے۔یہ کتاب کامل بھی ہے اور یہ کتاب کمزور بھی کبھی نہیں ہو گی تو پھر کسی اور کلام یا کسی اور مدعیٔ الہام کی کیا ضرورت ہوئی۔اسی طرح پہلی سورۃ میں بتایا گیا تھا کہ خُلِقَ مِنْ مَّآءٍ دَافِقٍ انسان کی پیدائش مَآءٍ دَافِقٍ یعنی اچھلنے والے پانی سے ہوئی ہے۔یہاں اللہ تعالیٰ صرف مَآءٍ کا لفظ بھی استعمال فرما سکتا تھا جیسے بعض دوسرے مقامات پر انسانی پیدائش کے متعلق صرف مَآءٍ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔دَافِقٍ کا لفظ اس کے ساتھ استعمال نہیں ہوا۔مگر یہاں اللہ تعالیٰ نے بجائے مَآءٍ کا لفظ استعمال کرنے کے مَآءٍ دَافِقٍ کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔درحقیقت ان الفاظ کے ذریعہ اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جس طرح ظاہری طور پر نطفہ میں دفق کی خاصیت ہوتی ہے اور وہ اچھل کر باہر نکلتا ہے اسی طرح باطن میں بھی انسان کے اندر اچھلنے کودنے کی خاصیت رکھی گئی ہے۔گویا اس کی ظاہری پیدائش سے اس کی باطنی پیدائش ملتی جلتی ہے۔جس طرح ظاہر میں وہ اچھلنے والے مادہ سے پیدا ہوا ہے اسی طرح روحانی طور پر بھی اس میں اچھال پیدا ہوتا ہے اور اس پر ترقی کے مختلف دَور آتے ہیں۔وہ بڑھتا ہے گھٹتا ہے۔بڑھتا ہے گھٹتا ہے۔بڑھتا ہے گھٹتا ہے۔یہ قول بھی اِنَّہٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌ سے ٹکراتا تھا اور سوال پیدا ہوتا تھا کہ خُلِقَ مِنْ مَّآءٍ دَافِقٍ میں تو اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا تھاکہ انسانی پیدائش اچھلنے والے پانی سے ہوئی ہے جس کے معنے یہ تھے کہ انسان کی روحانی پیدائش بھی اچھلنے والے مادہ سے ہے اور اس پر ترقی اور تنزّل کے مختلف دَور