تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 227 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 227

دوسری شادی ہی کیوں کی۔انگریز عورت کہنے لگی نہیں جب اس نے ایک کو بہن قرار دیا تھا تو یہ کافی تھا۔میں نے کہا اچھا اس ایرانی بہن سے پوچھو کہ کیا بہن سے بچے پیدا کرنے بھی بہائی مذہب میں جائز ہیں۔اگر نہیں تو دعویٰ کے بعد اس بہن کے بطن سے بہاء اللہ کے ہاں اولاد کیوں پیدا ہو ئی تھی۔اس پر وہ انگریز عورت جوش سے کھڑی ہو گئی اور کہنے لگی آپ تو گالیاں دینے لگ گئے ہیں۔میں نے کہا یہ گالیاں نہیں بلکہ حقیقت کا اظہار ہے۔تم اس سے پوچھو کہ کیا دعویٰ کے بعد بہاء اللہ کے ہاں اس دوسری عورت سے اولاد ہوئی ہے یا نہیں۔اس دفعہ ایرانن بہت دیر تک خاموش رہی مگر آخر اسے تسلیم کرنا پڑا کہ دوسری بیوی سے دعویٰ کے بعد بھی ان کے ہاں اولاد ہوئی تھی۔میں نے کہا اب آپ خود فیصلہ کر لیں کہ ہم قرآن کو کیوں مانتے ہیں اور بہاء اللہ کو اپنے دعویٰ میں کیوں سچا تسلیم نہیں کرتے۔بہاء اللہ کو ہم اسی صورت میں مان سکتے تھے جب قرآن کریم کے ذریعہ ہماری دینی ضروریات پوری نہ ہو سکتیں اور بہاء اللہ اس ضرورت کو پورا کر دیتے لیکن اگر وہ ایسا نہیں کر سکتے اور ادھر کوئی ایسی ضرورت بھی نہیں ہے جسے اسلامی شریعت نے پورا نہ کیا ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ قرآنی شریعت کو ترک کیا جائے اور بہائی شریعت کو قابلِ قبول قرار دیا جائے۔غرض بہائی شریعتِ اسلامیہ کو منسوخ قرار دیتے اور ایک نئی شریعت دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام دنیا میں اس لئے مبعوث ہوئے ہیں کہ آپؑاسلام کو زندہ کریں اور شریعت کو دنیا میں قائم کریں۔اللہ تعالیٰ نے خود آپؑکو الہاماً فرمایا کہ یُـحْیِ الدِّیْنَ وَیُقِیْمُ الشَّـرِیْعَۃَ (تذکرہ صفحہ ۵۷۵)۔مسیح موعود ؑ اس لئے آیا ہے تاکہ وہ اسلام کو زندہ کرے اور شریعت کو دوبارہ دنیا میں قائم کرے۔آپؑاس مقصد کو لے کرکھڑے ہوئے اور لاکھوں لوگوں کو اپنے ارگرد اکٹھا کر لیا۔بہاء اللہ نے یہی کیا کہ اسلامی شریعت میں سے بہت سی باتوں کو یا منسوخ کر دیا یا ان میں آسانیاں پیدا کر دیں۔مگر پھر بھی لوگوں نے اس کو نہ مانا۔بہائیوں کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے اردو میں کہتے ہیں ’’شافعی سب کچھ معافی‘‘ ان کا مذہب بھی اسی قسم کا ہے۔اس قسم کی تحریک کو دنیا میں چلانا اور بات ہے اور ساری دنیا کی مخالفت کے باوجود بنی نوع انسان کی ساری زندگی بدلنا، ان کی صبح بدلنا ان کی شام بدلنا، ان کا دن بدلنا ان کی رات بدلنا، ان کا اوڑھنا بدلنا ان کا بچھونا بدلنا، ان کا کھانا بدلنا ان کا پینا بدلنا، ان کا ظاہر بدلنا ان کا باطن بدلنا، ان کا مذہب بدلنا ان کی سیاست بدلنا، ان کی تعلیم بدلنا اور ان کا تمدن بدلنا یہ وہ کام ہے جسے حقیقی کام کہا جا سکتا ہے اور وہ یہ کام ہے جو گذشتہ دو ہزار سال میں یا تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا یا اب ان کے شاگرد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کیا ہے۔پس ترقی کے جو آثار ہیں وہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت میں پائے جاتے ہیں۔آپؑہی دنیا