تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 228 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 228

کے مسیحؑ اور مہدؑی ہیں۔آپؑہی ان کے نجات دہندہ ہیں اور آپ ہی وہ موعود ہیں جو ان تاریخوں میں ظاہر ہوئے جو محمد رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرما دی تھیں یا قرآن کریم میں ان کا ذکر آتا تھا۔اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ۪ۙ۰۰۷ کیا تجھے معلوم ہے کہ تیرے رب نے عاد سے کیا (معاملہ) کیا۔تفسیر۔اَلَمْ تَرَ کا مطلب اَلَمْ تَرَ قرآن کریم کا ایک محاورہ ہے اس سے رؤیتِ قلبی یا رؤیتِ علمی مراد ہوتی ہے رویتِ عین مراد نہیں ہوتی جیسے قرآن کریم میں ہی ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَلَمْ تَرَکَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِاَصْحٰبِ الْفِیْلِ (الفیل:۲) کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اصحاب الفیل کے ساتھ کیسا سلوک کیا حالانکہ اصحاب الفیل کے واقعہ کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے تھے اس کے حالات آپؐنے دیکھے نہیں تھے۔پس معنے یہی ہیں کہ کیا تمہیں معلوم ہے اللہ تعالیٰ نے اصحاب الفیل سے کیا کیا۔اسی طرح اَلَمْ تَرَکَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِعَادٍ میں بھی رؤیتِ علمی مراد ہے رؤیتِ عین مراد نہیں۔مطلب یہ ہے کہ کیا تجھے معلوم نہیں اللہ تعالیٰ نے عاد سے کیا کیا اور کیا تو ان حالات سے نصیحت حاصل نہیں کرسکتا۔یہاں تُو سے مراد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہیں بلکہ ہر انسان مخاطب ہے۔بعض جگہ خطاب واحد کے صیغہ سے ہوتا ہے لیکن مراد ایک جماعت ہوتی ہے۔یہاں بھی اَلَمْ تَرَ سے مراد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہیں بلکہ سارے مسلمان اور پھر ساری دنیا ہے۔عاد ایک قبیلے کا نام تھا اس کا ذکر تفصیلی طور پر تفسیر کبیر جلد ۴ صفحہ ۲۸۱ سورۃ ہود آیت ۵۱ وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًامیں آچکا ہے۔عاد کے وجود کے متعلق بعض لوگوں کا اعتراض اور اس کا جواب یورپین لوگ کہتے ہیں کہ اس قبیلے کا وجود آثارِ قدیمہ سے نہیں ملتا۔چنانچہ عرب کے جس قدر کھنڈرات کھودے گئے ہیں اور جس قدر آثار قدیمہ کا سراغ لگایا گیا ہے ان میں عاد کا وجود کسی جگہ نہیں ملا۔لیکن ان کی یہ بات ثبوت اور دلیل کے طور پر تسلیم نہیں کی جا سکتی۔اوّل تو اس لئے کہ ان کا پرانے کھنڈرات کو تلاش کرنا یہ معنے نہیں رکھتا کہ عرب کے سارے کھنڈرات انہوں نے تلاش کر لئے ہیں۔عرب میں انگریزوں کو تو کوئی جانے ہی نہیں دیتا۔باہر کے علاقوں میں جہاں ان کا قبضہ ہے انہوں نے کچھ کھنڈرات بے شک تلاش کئے ہیں۔لیکن ان کھنڈرات میں عاد کے نشانات کا نہ ملنا یہ معنے نہیں رکھتا