تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 226 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 226

میں جب ولایت گیا تو ایک انگریز بہائی عورت مجھ سے ملنے کے لئے آئی اور کہنے لگی آپ بہاء اللہ کو کیوں نہیں مانتے میں نے کہا تم قرآن میں کوئی نقص بتا دو تو پھر یہ سوال بھی ہو سکتا ہے کہ میں کسی اور مذہب کی طرف رجوع کروں ورنہ جب تک قرآن کریم میں کوئی نقص ثابت نہیں ہوتا مجھے کسی اور مذہب کی تعلیم کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے وہ کہنے لگی دیکھئے! قرآن میں یہ کتنا بڑا نقص ہے کہ اس نے ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت دی ہے۔میں نے کہا بہاء اللہ نے خود ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت دی ہے، وہ کہنے لگی یہ بات بالکل غلط ہے، بہاء اللہ نے قطعاً ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت نہیں دی۔اس کے ساتھ ایک اور عورت بھی تھی جو ایرانن تھی اور چھ ماہ کے قریب مرزا عباس علی کے پاس رہ آئی تھی۔میں نے اس انگریز عورت سے کہا کہ تم اپنے ساتھ والی عورت سے پوچھو کہ کیا یہ درست ہے یا نہیں۔اس نے پوچھا تو وہ جواب دینے میں کچھ شرارت کر گئی کہنے لگی دو۲ شادیوں کا ذکر تو آتا ہے مگر بہاء اللہ نے لکھا تھا کہ میرے کلام کی جو تشریح مرزا عباس علی کریں وہی درست ہو گی اور انہوں نے یہی تشریح کی ہے کہ ایک ہی شادی کرنی چاہیے۔میں نے کہا یہ بھی کوئی معقول بات ہے کہ دو۲شادیوں کا ذکر ہو اور کہا جائے کہ اس سے مراد ایک ہی شادی ہے۔انگریز عورت کہنے لگی جواب تو درست ہے کہ جب مرزا عباس علی نے تشریح کر دی اور کہہ دیا کہ ایک ہی شادی کرنی چاہیے تو معاملہ ختم ہو گیا۔میں نے کہا اچھا یہ بتاؤ بہاء اللہ نے عباس علی کو کہا تھا یا نہیں کہ تم لڑکے کی خاطر دوسری بیوی کر لو۔اس انگریز عورت نے کہا یہ کبھی نہیں ہو سکتا۔میں نے کہا اپنے ساتھ والی سے پوچھو۔اس سے پوچھا گیا تو وہ کہنے لگی کہا تو تھا مگر اس نے مانا نہیں۔میں نے کہا اس نے بات نہیں مانی تو وہ نافرمان تھا اس پر الزام عائد ہوتا ہے کہ اس نے اپنے باپ کے حکم کی جو مظہرِ خدا تھا خلاف ورزی کی۔اس انگریز عورت نے کہا کہ نہیں جب اس نے انکار کر دیا تو بات صاف ہو گئی۔بہاء اللہ نے خواہ کچھ لکھا ہو اس نے انکار کر دیا تو پتہ لگ گیا کہ دوسری شادی جائز نہیں۔میں نے کہا اچھا یہ بتاؤ بہاء اللہ کی اپنی دو۲ بیویاں تھیں یا نہیں۔انگریز عورت نے پھر کہا کہ ہرگز نہیں۔میں نے کہا اپنی ایرانن بہن سے پوچھو۔اس سے پوچھا گیا تو اس نے کہا مجھ سے کیوں پوچھتے ہیں۔میں نے کہا آخر تم وہاں رہ آئی ہو اور تمہاری ساتھن ناواقف ہے تمہارا تنا بتا دینے میں کیا حرج ہے کہ بہاء اللہ کی دو۲ بیویاں تھیں یا نہیں۔اس نے کہا اصل بات یہ ہے کہ دعویٰ سے پہلے اس کی دو۲ بیویاں تھیں لیکن دعویٰ کے بعد اس نے ایک بیوی کو بہن قرار دے دیا تھا۔انگریز عورت یہ سن کر اچھل پڑی اور کہنے لگی دیکھئے دیکھئے!! جواب ہو گیا۔میں نے کہا تمہارا عقیدہ یہ ہے کہ بہاء اللہ خدائی کے مقام پر تھا اور بچپن سے اسے علم غیب حاصل تھا، اگر بہاء اللہ کو علم تھا کہ مجھے اپنی ایک بیوی کو بہن قرار دینا پڑے گا تو اس نے