تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 18
سُوْرَۃُ الْاَعْلٰی مَکِّیَّۃٌ سورۃ الاعلیٰ۔یہ سورۃ مکی ہے وَھِیَ تِسْعَ عَشْـرَۃَ اٰیَۃً دُوْنَ الْبَسْمَلَۃِ وَ فِیْـھَا رُکُوْعٌ وَّاحِدٌ اور اس کی بسم اللہ کے سوا انیس آیتیں ہیں اور ایک رکوع ہے سورۃ الاعلیٰ مکی ہے یہ سورۃ جمہور کے نزدیک مکی ہے۔حضرت ابن عباسؓ، ابنِ زبیرؓ اور حضرت عائشہؓ بھی فرماتی ہیں کہ یہ مکی ہے۔بخاری اور دوسری کتبِ احادیث میں حضرت براء بن عاذبؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے صحابہؓ میں سے سب سے پہلے مصعب ابن عمیرؓ اور عبداللہ بن ام مکتومؓ مدینہ تشریف لائے اور انہوں نے ہمیں قرآن مجید سکھانا شروع کیا۔ان کے بعد عمارؓ اور بلالؓ اور سعدؓ آئے پھر عمر ابن خطابؓ بیس۲۰ صحابہؓ سمیت آئے۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم آئے اور میں نے مدینہ والوں کو کسی بات پر اتنا خوش ہوتے نہیں دیکھا جتنا رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی تشریف آوری پر ان کو خوش دیکھا۔یہاں تک کہ بچے بھی خواہ وہ چھوٹے تھے یا بڑے جب آپس میں ملتے تو نہایت خوشی کے ساتھ ایک دوسرے سے کہتے دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے۔دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آگئے اور جب آپؐتشریف لائے تو میں نے اس وقت سورۃ الاعلیٰ اور اسی قسم کی بعض اور سورتیں یاد کی ہوئی تھیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورۃ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ تشریف لانے سے پہلے نازل ہو چکی تھی۔یورپین مصنّفین بھی اس طرف گئے ہیں کہ یہ سورۃ مکہ میں نازل ہو چکی تھی۔چنانچہ جرمن محقق نولڈکے اسے سورۂ نون کے معاً بعد نازل ہونے والی سورۃ قرار دیتا ہے۔پادری ویری کا سورۂ اعلیٰ کی بعض آیات کے مدنی ثابت کرنے کے متعلق بے ہودہ استدلال پادری ویری نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ اس کی سترہو۱۷یں، اٹھارو۱۸یں اور انیسو۱۹یں آیتیں مدنی ہیں کیونکہ ان آیتوں میں حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ علیہم السلام کی کتب کا ذکر کیا گیا ہے اور ان انبیاء سے مدینہ میں جا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم یہودیوں سے ملنے کی وجہ سے ہی روشناس ہوئے تھے۔لیکن یہ استدلال پادری ویری کے مخصوص استدلالوں