تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 17
فَمَهِّلِ الْكٰفِرِيْنَ اَمْهِلْهُمْ رُوَيْدًاؒ۰۰۱۸ پس (اے رسول) کفار کو مہلت دو انہیں کچھ (اور) مہلت دو (تا جو زور لگانا چاہیں لگا لیں)۔حلّ لُغات۔مَھِّلْ۔مَھِّلْ۔مَھَّلَ سے امر کا صیغہ ہے اور مَھَّلَ کے معنے ہیں اَنْظَرَہٗ وَاَجَّلَہٗ اس کو مہلت دی (اقرب) اَمْھِلْ اَمْھَلَ کا امر ہے اور اس کے بھی وہی معنے ہیں جو مَھَّلَ کے ہیں (اقرب) نیز مَھَلَ اور اَمْھَلَ کے معنے ہیں رَفِقَ بِہٖ اس کے ساتھ نرمی اور رفق کا معاملہ کیا (اقرب) پس اَمْھِلْ اور مَھِّلْ کے معنے ہوں گے (۱)مہلت دے (۲)نرمی کا معاملہ کر۔تفسیر۔مَھِّلْ کے بعد اَمْھِلْھُمْ رُوَیْدًاکہنے کی وجہ اس آیت میں ایک لطیف اشارہ کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ یوں بھی کہہ سکتا تھا کہ فَمَھِّلِ الْکٰفِرِیْنَ رُوَیْدًا مگر بیان کی لطافت اور اس کی خوبی اس سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بجائے فَمَھِّلِ الْکٰفِرِیْنَ رُوَیْدًا کے فَمَھِّلِ الْکٰفِرِیْنَ اَمْھِلْھُمْ رُوَیْدًا فرمایا۔پہلے فرمایا کہ فَمَھِّلِ الْکٰفِرِیْنَ کافروں کو مہلت دے اس سے دو کیفیتیں پیدا ہوتی تھیں۔ایک مومنوں کے قلب میں اور ایک کفار کے قلب میں۔مومنوں کے قلب میں تو اس سے یہ کیفیت پیدا ہوتی تھی کہ نہ معلوم کفار کو یہ مہلت کب تک دی جائے گی اور کفار کے دل میں یہ کیفیت پیدا ہوتی تھی کہ ابھی کوئی فکر کی بات نہیں ہمیں اور مہلت مل گئی ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کیفیتوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے فرما دیا۔اَمْھِلْھُمْ رُوَیْدًا اس طرح مومنوں کی بھی دلجوئی کر دی کہ کفار کو کوئی لمبی مہلت نہیں دی جائے گی بلکہ بہت تھوڑی مہلت دی جائے گی اور ادھر کفار کی امید توڑ دی کہ تم یہ خیال مت کرو کہ تمہیں اور ڈھیل دی جائے گی تمہاری تباہی اور بربادی کا وقت اب بالکل قریب آپہنچا ہے۔محاورہ میں کہتے ہیں سَارُوْا سَیْرًا رُوَیْدًا اَیْ بِرِفْقٍ پس اَمْھِلْھُمْ رُوَیْدًا کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ ان کو تھوڑی مدت تک مہلت دے۔اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ ایام مہلت میں ان سے رفق کا معاملہ کرو کیونکہ آخر ان کی سزا کا وقت آنے والا ہے اس وقت ان کی تباہی کے سامان اللہ تعالیٰ خود اپنے ہاتھوں سے کرے گا۔