تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 213 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 213

بدرجہ ان ساری حالتوں میں سے گذرو گے تم پر تاریکی کے دَور بھی آئیں گے اور روشنی کے بھی۔غلبہ کے ایّام بھی آئیں گے اور تنزل کے بھی۔ابتدا میں تمہاری حالت شفق کے مشابہ ہو گی اس کے بعد رات اپنی تمام تاریکیوں کو جمع کر کے بھیانک صورت اختیار کر لے گی۔پھر اس کے بعد چاند نکلے گا جو تمام تاریکیوں کو پھاڑ دے گا اور اسلام کی مشکلات کا خاتمہ ہو جائے گا۔اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ یہاں ظاہری راتیں مراد نہیں بلکہ باطنی راتیں مراد ہیں اور مسلمانوں کے تنزل اور پھر ان کی دوبارہ ترقی کا ان آیات میں نقشہ کھینچا گیا ہے۔اسی طرح سورۂ بروج میں فرماتا ہے وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الْبُرُوْجِ(البروج:۲)۔یعنی ہم آسمان کو شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں جو بروج والا ہے۔وَالْیَوْمِ الْمَوْعُوْدِ(البروج:۳) اور ہم شہادت کے طور پر یومِ موعود کو بھی پیش کرتے ہیں۔علم ہیئت کے ماہرین بارہ ستاروں کے لئے بارہ بُرج قرار دیتے ہیں اس لحاظ سے ذَاتِ الْبُرُوْجِ سے مراد وہ آسمان ہو گا جو بارہ بُرجوں والا ہے اور آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ ہم آسمان کو شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں جو بارہ بُرجوں والا ہے۔اور پھر اس کے ساتھ ہی یومِ موعود کو بھی پیش کرتے ہیں یعنی تیرہویں زمانہ کو۔تیرہویں صدی میں اسلام کے احیاء کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مقدس انسان مبعوث ہونے والا ہے جس کی تشریح اگلی آیت میں ہی ان الفاظ میں فرمائی کہ وَشَاھِدٍ وَّ مَشْھُوْدٍ(البروج:۴) وہ وجود گواہ بن کر آئے گا ایک اور وجود کے لئے جو مشہود ہو گا اور جس کی صداقت کی گواہی دی جائے گی۔یعنی مسیح موعودؑمبعوث ہو گا تاکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت اور قرآن مجید کی سچائی کا گواہ ہو۔اور اسلام کا زوال رو بہ ترقی ہو۔اس آیت سے بھی تیرہویںصدی میں ایک شاہد کے ظہور کا ثبوت ملتا ہے۔اسی طرح احادیث میں آتا ہے۔خَیْرُکُمْ قَرْنِیْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَـھُمْ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ثُمَّ یَکُوْنُ بَعْدَ ھُمْ قَــــوْمٌ یَــــشْـــــھَــــدُوْنَ وَلَا یُــسْـــتَــشْــھَــدُوْنَ وَیَـــخُــوْنُــوْنَ وَلَا یُـــؤْتَـــمَــنُــوْنَ وَیَــنْــذُرُوْنَ وَلَایَفُـــوْنَ وَیَظْھَرُ فِیْـھِمْ السِّمَنُ۔(صــحیح بـخاری کتاب الرقاق باب ما یـحذر من زھرۃ الدنیا والتّنافس فیـھا ) یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سب سے بہتر میری صدی ہے پھر بعد کی صدی اور پھر اس سے بعد کی صدی مگر اس کے بعد ایسے لوگ پیدا ہو جائیں گے جو گواہی دیں گے تو لوگ کہیں گے تمہاری گواہی کا کیا اعتبار تم تو جھوٹ بولنے کے عادی ہو۔کوئی شخص ان کے پاس امانت رکھنے کے لئے تیار نہیں ہو گا۔کیونکہ وہ سخت خائن اور بددیانت ہوں گے۔اسی طرح ان کا حال یہ ہو گا کہ وہ نذریں مانیں گے تو ان کو پورا نہیں کریں گے اور کھا کھا کر خوب موٹے ہو جائیں گے۔دین کی رغبت اور قربانی کا جذبہ ان کے دلوں میں نہیں رہے گا۔