تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 214 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 214

ان سب آیات اور پیشگوئیوں کو ملانے سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے تین صدی تک اسلام کی ترقی کا زمانہ ہو گا اس کے بعد دس صدیوں کا لمبا زمانہ اس پر تنزل کا آئے گا۔جیسا کہ میں پہلے بھی بتا چکا ہوں یہ ضروری نہیں ہوتا کہ وقت مقررہ پورے کا پورا ہی شمار ہو جب تک کہ کوئی خاص قرینہ نہ ہو بلکہ ایک سال کا اکثر حصہ ایک سال اور دن کا ایک کثیر حصہ ایک دن اور صدی کا ایک کثیر حصہ ایک صدی کہلا سکتا ہے۔پس حدیث کی مقرر کردہ تین صدیوں کو جن کے بعد فتنہ فساد پھیل جانا ہے قرآن کریم کے دو سو اکہتر۲۷۱ سالوں سے اختلاف نہیں۔بلکہ ایک جگہ عرصہ زیادہ معین کر دیا گیا ہے اور دوسری جگہ عرفی الفاظ استعمال کر دیئے گئے ہیں۔الغرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالْفَجْرِ۔وَلَیَالٍ عَشْرٍ کہ ہم اس فجر کی اور ان دس راتوں کی قسم کھاتے ہیں جو اس فجر سے پہلے آئیں گی اور اس سے مراد وہ ہزار سالہ دَورِ تنزّل اور دَورِ ضُعف ہے جو اسلام پر پہلی تین صدیوں کے بعد آیا اور ہر رنگ میں تنزّل آنا شروع ہوا یہاں تک کہ ساری تاریکیاں جمع ہو گئیں گویا جس طرح پہلے دَور کے متعلق ایک رات ایک سال کی قائم مقام تھی دوسری پیشگوئی میں ایک رات ایک صدی کی قائم مقام ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان تاریک راتوں کے بعد فجر کا زمانہ آئے گا اور تاریکی و ظلمت کے بادل آسمانِ روحانیت پر سے پھٹ جائیں گے۔چنانچہ اسی مناسبت سے مسیح موعودؑ کا ایک نام طارق رکھا گیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھی پہلا الہام وَالسَّمَآءِ وَالطَّارِقِ ہوا(تذکرہ صفحہ ۲۴)۔اور یہ الہام آپؑکو آپؑکے والد کی وفات کے وقت ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کے معنے ان کی وفات کے کئے ہیں کیونکہ ان کی وفات رات کو ہوئی۔مگر اس کے معنے صبح کے ستارہ کے بھی ہوتے ہیں اور والد کی وفات کے وقت جب آپ کو فکر ہوئی کہ والد فوت ہو جائیں گے تو کیا ہوگا تو اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ تم تو طارق ہو اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نور کو ظاہر کرنے والے ہو۔پس تمہارے والد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اس دنیوی والد کی وفات کا تم کو کیا غم ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ الٓمّٓرٰ کے ابجدی اعداد کو اگر فیج اعوج کے ہزار سال سے ملایا جائے اور پھر اس سارے حساب کو عیسوی بنانے کے لئے اس میں ۶۲۱ سال وہ شامل کئے جائیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہجرت کے زمانہ تک سنہ عیسوی کے لحاظ سے بنتے ہیں تو عین وہ سنِ عیسوی نکل آتا ہے جس میں فجر کا طلوع ہوا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دنیا کے سامنے اپنا دعویٰ پیش فرمایا۔الٓمّٓرٰ کے اعداد ۲۷۱ ہیں اس میں دس صدیاں شامل کی جائیں تو ۱۲۷۱ بن جاتا ہے پھر ۱۲۷۱ میں ۶۲۱ سال پہلے شامل کئے جائیں تو ۱۸۹۲ بن جاتے ہیں۔اب اس میں دو یا تین سال ہمیں بہرحال نکالنے پڑیں گے کیونکہ الٓمّٓرٰ سورۂ رعد میں آتا ہے جو مکی سورۃ ہے اور ہجرت سے دو تین سال پہلے نازل ہوئی تھی۔اب