تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 191
يَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّ يُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ وَ يَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ۔وَ اِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِيُثْبِتُوْكَ اَوْ يَقْتُلُوْكَ اَوْ يُخْرِجُوْكَ١ؕ وَ يَمْكُرُوْنَ وَ يَمْكُرُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَيْرُ الْمٰكِرِيْنَ(الانفال:۳۰،۳۱) فرماتا ہے اے مومنو! اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو اگر تم تقویٰ اختیار کرو گے تو وہ تمہاری کامیابی کے بیسیوںرستے پیدا کر دے گا۔تمہاری کوتاہیوں کو دور کرے گا اور تمہاری کمزوریوں پر پردہ ڈال دے گا اور اللہ بڑے فضلوں والا ہے۔چنانچہ ہم تمہارے سامنے اس کی ایک مثال پیش کرتے ہیں تاکہ تمہیں یہ خیال نہ ہو کہ یہ محض قیاسی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ بڑے فضلوں والا ہے سواے ہمارے رسول! تم بھی یاد کرو اور لوگوں کے سامنے بھی اس واقعہ کو پیش کرو کہ ہمارا خدا کیسا وفادار خدا ہے۔کتنی بڑی طاقتوں اور قدرتوں کا مالک خدا ہے۔جب تمہارے متعلق کفار نے مختلف منصوبے شروع کر دیئے تھے اور ان منصوبوں سے ان کی غرض یہ تھی کہ اے ہمارے رسول! تجھے قید کر دیں یا تجھے قتل کر دیں یا تجھے اپنے گھر سے باہر نکال دیں۔یہ تین تدبیریں تھیں جن کا تیرے خلاف انتظام کیا جا رہا تھا۔وہ چاہتے تھے کہ تجھے قید کر دیں۔وہ چاہتے تھے کہ تجھے قتل کر دیں وہ چاہتے تھے کہ تجھے اپنے شہر سے نکال دیں۔یہ مطلب نہیں کہ بیک وقت وہ ان تینوں تدبیروں پر عمل کرنا چاہتے تھے بلکہ مطلب یہ ہے کہ ان میں سے بعض ایسے تھے جنہوں نے دورانِ مشورہ میںیہ رائے دی کہ اس شخص کا معاملہ اب حد سے بڑھ گیا ہے اور مدینہ کے لوگ بھی اس پر ایمان لانے لگ گئے ہیں اگر یہ اسی طرح ترقی کرتا چلا گیا تو ہمارے لئے یہ بات نہایت خطرناک ہو گی۔بہتر یہ ہے کہ اسے قید کر دیا جائے تاکہ نہ یہ لوگوں سے مل سکے اور نہ اپنی تبلیغ کو پھیلا سکے۔دوسروں نے کہا کہ یہ مناسب نہیں اگر ہم نے اسے قید کر دیا تو اس کے رشتہ داروں اور ماننے والوں کو جب اس کا پتہ چلا تو وہ جوش میں آکر لڑنے پر آمادہ ہو جائیں گے اور اس طرح قوم میں فساد ہو گا اس لئے ہمارے نزدیک بہتر یہ ہے کہ اس کو قتل کر دیا جائے تاکہ یہ جھگڑا ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے اور اس کے رشتہ دار بھی یہ سمجھ کر کہ اب تو ہمارا عزیز مارا ہی جا چکا ہے اب قوم سے لڑائی مول لینے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ وہ تو واپس آ نہیں سکتا صبر سے کام لیں۔بعض اور لوگوں نے کہا کہ قتل کرنا مناسب نہیں اس کے قتل پر شور مچ جائے گا اور بالکل ممکن ہے کہ بنو ہاشم بدلہ لینے کے لئے ہم سے لڑائی شروع کر دیں اور جیسا کہ بعض دوسروں کا خیال ہے کہ صبر کر کے بیٹھ جائیں واقع میں ایسا نہ ہو پس بہتر یہ ہے کہ اسے مکہ سے نکال دیا جائے۔وہ لوگ جو اخراج کی تدبیر کے خلاف تھے انہوں نے کہا کہ یہ کوئی اچھی تجویز نہیں۔ہمارا مقصد تو اس کے مشن کو ناکام کرنا ہے۔اگر یہ باہر جا کر اپنی باتوں کو پھیلانے لگ گیا تو تمام عرب تمہارے خلاف ہو جائے گا۔(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام زیر عنوان ہجرۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم ) غرض مختلف تجاویز پیش ہوئیں کسی پر