تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 192 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 192

کوئی اعتراض ہوتا اور کسی پر کوئی۔مگر آخر انہوں نے فیصلہ کیا کہ اصل علاج یہی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دیا جائے پس چونکہ انہوں نے تین تجویز یںکی تھیں اس لئے قرآن کریم نے بھی ان تینوں تجویزوں کا ذکر کر دیا۔پہلے تثبیت کا ذکر کیا پھر قتل کا ذکر کیا پھر اخراج کا ذکر کیا۔دیکھو اس جگہ قتل جو بڑی چیز تھی اللہ تعالیٰ نے اس کا درمیان میں ذکر کیا ہے اور قید اور جلاوطنی جو اس سے کم درجہ کی چیزیں تھیں ان کو دائیں بائیں رکھ دیا ہے یہ وہی ترتیب ہے جس کا میں اَفَلَا يَنْظُرُوْنَ اِلَى الْاِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ۔وَ اِلَى السَّمَآءِ كَيْفَ رُفِعَتْ کی تفسیر میں ذکر کر چکا ہوں کہ بعض دفعہ ایک بڑی چیز کو درمیان میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس سے چھوٹی چیزوں کو دائیں بائیں۔گویا یہ کلام مثلّث کی شکل کا ہو تا ہے دو۲ مشورے جو ادنیٰ تھے ان کو خدا تعالیٰ نے دائیں بائیں بیان کر دیا اور جو زیادہ سخت اور چوٹی کا مشورہ تھا اسے درمیان میں رکھ دیا۔بہرحال آخری فیصلہ انہوں نے یہی کیا کہ آپ کو قتل کر دیا جائے۔قید کرنا یا آ پ کو مکہ سے باہر نکال دینا مناسب نہیں اس میں زیادہ خطرات ہیں اگر جھگڑا ختم کرنا ہے تو اس کا طریق یہی ہے کہ حملہ کر کے آپ کو مار ڈالا جائے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان کا آخری فیصلہ قتل کا ہی تھا مگر قرآن کریم نے ان کے تینوں مشوروں کا ذکر کیا ہے جس کی حکمت میں آگے چل کر بیان کروں گا۔اللہ تعالیٰ ان کے تینوں مشوروں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے يَمْكُرُوْنَ وَ يَمْكُرُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَيْرُ الْمٰكِرِيْنَ۔انہوں نے تین منصوبے کئے خواہ آخر میں قتل پر ہی متفق ہو گئے اور میں نے بھی ان کے مقابلہ میں تین تدبیریں کیں بعض نے کہا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو قید کر دینا چاہیے۔بعض نے کہا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو قتل کر دینا چاہیے اور بعض نے کہا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو جلاوطن کر دینا چاہیے۔خدا تعالیٰ نے ان کی تدبیروں کو سنا اور اس نے کہا بہت اچھا میں تم سے یہ تینوں کام کرواؤں گا اور پھر تمہیں ان تینوں کاموں میں ناکام ونامراد کرکے دکھا دوں گا۔تم قتل کا منصوبہ کرو گے اور ذلیل و رسوا ہو گے۔تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قید کر و گے اور ذلیل ورسوا ہو گے۔تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے باہر نکال دو گے اور ذلیل و رسوا ہوگے۔فرض کرو وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا منصوبہ کرتے اور اس میں کامیاب ہو جاتے گو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو قتل نہیں ہو سکتے تھے کیونکہ آپ شرعی نبی تھے اور اللہ تعالیٰ کی حفاظت آپ کے ساتھ تھی۔لیکن بفرضِ محال اگر وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب ہو جاتے اور اس کے بعد بنوہاشم بدلہ لینے کے لئے جنگ شروع کر دیتے اور کفار میں سے بڑے بڑے لوگ مارے جاتے تو وہ لوگ جنہوں نے قید یا جلاوطن کرنے کا مشورہ دیا تھا خوش ہوتے اور کہتے ہم نے نہیں کہا تھا کہ تم اسے قتل نہ کرو تم نے ہمارا مشورہ نہ مانا اور یہ نقصان اٹھایا۔یا فرض کرو