تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 182 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 182

طرف اشارہ ہے وَلَیَالٍ عَشْرٍ سے اور واقعہ کی طرف۔وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ سے اور واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور وَالَّیْلِ اِذَایَسْرِ سے اور واقعہ کی طرف۔تو یہ بھی ایک معقول توجیہ ہو سکتی ہے اور ہم اسے تسلیم کر سکتے ہیں بشرطیکہ یہ چاروں اہم واقعات سے تعلق رکھنے والے امور ہوں اور آپس میں کوئی جوڑ اور تعلق رکھتے ہوں اور یا پھر ان کے متعلق یہ صورت تسلیم کی جا سکتی ہے کہ یہ دو یا تین مجموعے ہیں جن کو بیان کیا گیا ہے مثلاً ثابت کیا جائے کہ فلاں فلاں دو باتیں الگ بیان کی گئی ہیں اور فلاں فلاں دو باتیں الگ بیان کی گئی ہیں اور یہ چار الگ الگ واقعات نہیں بلکہ دو مختلف مجموعے ہیں۔یا مثلاً ثابت کیا جائے کہ وَالْفَجْرِ وَلَیَالٍ عَشْرٍ میں ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے۔وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ میں دوسرا اور وَالَّیْلِ اِذَایَسْرِ میں تیسرا۔تو یہ بھی درست ہو سکتا ہے غرض یہ تینوں صورتیں ہوسکتی ہیں یا تو یہ سارے امور ایک ہی واقعہ کے چار اہم جزو ہیں یا چاروں الگ الگ واقعات ہیں یا دو یا تین مجموعے ہیں۔سابق مفسرین نے ان کو ایک ہی واقعہ کے مختلف حصے قرار دیا ہے اور انہوں نے کوشش کی ہے کہ ایک ہی واقعہ پر لَیَالٍ عَشْرٍ کو چسپاں کریں۔اسی کو شفع کا مصداق قرار دیں اور اسی کو وتر قرار دیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا ذہن اس طرف گیا ہے کہ یہ ایک ہی واقعہ کے مختلف حصے ہیں جیسے محر۔۱م کی راتیں اور اس کی فجر اور اس کی نمازیں یا ذ۲ی الحجہ کے ایام اس کی راتیں اور بعض دن اور فجر۔یا ر۳مضان کی راتیں اس کی کوئی فجر اور بعض راتیں۔غرض اس امر میں اتفاق ہے کہ یہ ایک ہی واقعہ کے مختلف پہلو ہیں۔مگر جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں بیان کردہ تفسیریں سارے پہلوؤں پر مشتمل ثابت نہیں ہوتیں اور کوئی حقیقت باہرہ ان سے ظاہر نہیں ہوتی۔میرے نزدیک فجر چونکہ ایک بیان ہوئی ہے اور راتیں دس بیان ہوئی ہیں حالانکہ دس راتوں کی دس فجریں ہوتی ہیں اور راتوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔پہلے دس راتوں کا ذکر ہے درمیان میں شفع اور وتر کا ذکر ہے اور آخر میں پھر ایک رات کا ذکر ہے اس لئے میرے نزدیک صحیح مضمون پر پہنچنے کے لئے ہمیں سب سے زیادہ اس امر پر غور کرنے سے مدد مل سکتی ہے کہ یہاں فجر ایک بیان ہوئی ہے اور راتیں دس بیان کی گئی ہیں۔پھر ان دس راتوں کے بعد کوئی واقعہ شفع اور وتر کا ہے پھر کسی اور رات کا ذکر کیا گیا ہے جو چلی گئی۔گویا دو فجروں کا ذکر کیا گیا ہے۔ایک فجر وہ ہے جس کا دس راتوں کے ساتھ تعلق ہے پھر شفع اور وتر کا کوئی واقعہ ہے اور پھر ایک رات کا ذکر ہے جو دور ہو گئی یعنی اس کے بعد پھر ایک اور فجر کا طلوع ہو گیا۔اگر ہمیں کسی ایسے واقعہ کا علم حاصل ہو جائے جس میں یہ سب باتیں پائی جائیں اور وہ واقعہ ایسا ہو کہ ان تمام حصوں پر پوری طرح چسپاں ہو جاتا ہو تو دوست اور دشمن کوئی بھی اس کی صحت سے انکار نہیںکر سکتا۔پس ان آیات میں پہلے دس راتیں بیان ہوئی ہیں جن کے