تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 181

کرتے وقت تو ان پانچوں راتوں کو لے لینا جو جفت ہوں یا چار راتوں کو لے لینا جو جفت ہوں اور وتر سے مراد صرف ایک رات لینا یہ کوئی معقول بات نہیں ہے۔پھر یہ سوال بھی ہے کہ لیلۃ القدر تو وتر راتوںمیں سے ایک ہے لیکن وتر راتیں تو دس راتوں میں کئی آتی ہیں ان کی قسم کیوں کھائی ہے یا کس قرینہ سے لیلۃ القدر کے سوا دوسری وتر راتوں کو خارج سمجھا جائے اور پھر شفع کی قسم کی کیا وجہ ہے اگر شفع بھی مبارک ہیں اور وتر بھی تو الگ بیان کرنے کی وجہ کیا تھی؟ لَیَالٍ عَشْرٍ میں ان ساری راتوں کا ذکر آ چکا تھا۔آخرشفع اور وتر سے یہی مراد لیا جائے گا کہ پانچ طاق راتیں اور پانچ جفت راتیں۔مگر سوال یہ ہے کہ یہ ذکر تو لَیَالٍ عَشْرٍ میں پہلے ہی آ چکا ہے شفع اور وتر کے ساتھ جفت اور طاق راتوں کا الگ الگ ذکر کیوں کیا گیا ہے جب اللہ تعالیٰ نے دس راتوں کی قسم کھا لی تھی تو ان میں وتر راتیں بھی آ گئی تھیں اور جفت بھی ان کا ذکر علیحدہ کرنے کاکوئی فائدہ نہ تھا۔پھر سب سے آخر میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ وَالَّیْلِ اِذَایَسْرِ کیا شے ہے لَیَالٍ عَشْرٍ میں تو دس راتیں سب آ گئی تھیں جو دراصل نو ہوتی ہیں دس ہوتی ہی نہیں لیکن یہاں ایک گیارھویں رات کا بھی ذکر ہے۔اگر اعتکاف مراد لو تو اس کی بھی گیارہ راتیں کسی صورت میں نہیں ہوتیں یا دس بنیں گی یا نو۹۔ہاں بعض دفعہ گیارہ دن ہو جاتے ہیں۔غرض کوئی معنے آیاتِ قرآنیہ سے مطابقت نہیں کھاتے اور ہر ایک پر متعدد اور شدید اعتراضات وارد ہوتے ہیں۔سورۂ فجر کی پہلی چار آیات کی خدا تعالیٰ کی بتائی ہوئی تفسیر اب میں اپنے معانی بیان کرتا ہوں جو مجھے اللہ تعالیٰ نے یک دم سجدۂ آخری سے اٹھتے ہوئے عصر کی نماز میں بدھ کے دن سمجھائے۔ان آیات میں چار باتیں بیان ہوئی ہیں۔اوّل اَلْفَجْرِ دوم وَلَیَالٍ عَشْرٍ سوم وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ چہارم وَالَّیْلِ اِذَایَسْرِ۔ان چاروں کی قسم دو طرح ہو سکتی ہے یا یہ سارے امور ایک ہی واقعہ کے چار اہم جزو ہیں۔یعنی یا تو یہ کہنا پڑے گا کہ ان آیات میں صرف ایک واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے مگر اس ایک واقعہ کے چار اہم جزو الگ الگ بیان کر دیئے گئے ہیں اور یہ صورت بالکل جائز ہے۔میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ مفسرین کے بیان کردہ معنوں کو ہم مان سکتے تھے بشرطیکہ چاروں باتیں آپس میں منطبق ہو جاتیں مگر چونکہ ان کے پیش کردہ معانی پر تمام آیات پوری نہیں اترتیں اس لئے ہم ان کو تسلیم نہیں کر سکتے۔بہرحال ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ یہ ایک ہی واقعہ کے چار اہم جزو ہوں اور یا پھر یہ تسلیم کیا جائے کہ یہ چاروں الگ الگ واقعات ہیں اگر ثابت ہو جائے کہ وَالْفَجْرِ سے اور واقعہ کی