تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 183 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 183

ساتھ فجر کا تعلق ہے۔پھر شفع اور وتر کا ذکر ہے اور پھر ایک رات کے چلے جانے کا۔جس کے یہ معنے ہیں کہ یہاں رات پر زور دینا مدنظر نہیں بلکہ رات کے دور ہو جانے پر زور دینا مدنظر ہے لَیَالٍ عَشْرٍ میں رات پر زور دینا مقصود تھا۔مگر وَالَّیْلِ اِذَایَسْرِ میں رات کے چلے جانے پر زور دینا مقصود ہے۔چونکہ دنیا میں کوئی دس راتیں ایسی نہیں ہوتیں جن کی ایک فجر ہو اور کوئی دس راتیں ایسی نہیں ہوتیں جن کے بعد شفع اور وتر کا کوئی واقعہ ہو اور کوئی شفع اور وتر کا واقعہ ایسا نہیں ہوتا جس کے بعد ایک رات ہواس لئے لازماً تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ اس جگہ جن راتوں کا ذکر کیا گیا ہے ان کا مادی سورج کے چڑھنے اور ڈوبنے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور ایک رات سے مراد بھی کوئی ایسی رات نہیں جس میں سورج ایک طرف سے چڑھتا اور دوسری طرف نکل جاتا ہے کیونکہ دس راتوں کے بعد ایک فجر نہیں ہوتی۔اور نہ دس راتوں اور ایک رات کے درمیان کوئی شفع اور وتر ہوتا ہے پس یہاں ظاہری راتیں کسی صورت میں مراد ہی نہیں ہو سکتیں۔بلکہ عقلاً تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ اس جگہ رات اور فجر کے الفاظ استعارۃً استعمال ہوئے ہیں نہ کہ حقیقی معنوں میں۔کیونکہ کوئی ظاہری دس راتیں ایسی نہیں ہوتیں جن کے بعد ایک فجر ہو۔کوئی ظاہری دس راتیں ایسی نہیں ہوتیں جن کے بعد شفع اور وتر کا کوئی واقعہ ہو۔اور کوئی ظاہری ایک رات ایسی نہیں ہوتی جس کے بعد فجر ہی فجر رہے۔پھر راتوں کے ذکر میں یہ فرق پایا جاتا ہے کہ لَیَالٍ عَشْرٍ میں تورات کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے مگر ایک رات کے ذکر میں اس رات کے جانے اور دن کے نکل آنے پر زور دیا گیا ہے۔سورۂ فجر کی پہلی چار آیات میں واقعاتی ترتیب الغرض میرے نزدیک اس آیت کی ترتیب یوں ہے۔د۱س راتیں پھر ا۲یک فجر اور اس کے بعد ۳شفع اور وتر کا کوئی واقعہ اور پھر ایک را۴ت اور پھر ایک طویل فجر۔گویا اس واقعہ میں دس راتوں کے بعد ایک فجر اور اس کے بعد ایک شفع و وتر کا واقعہ اور اس کے بعد ایک رات اور ایک لمبی فجر کا ذکر ہے۔پہلی فجر کو دس راتوں سے پہلے اس لئے بیان کیا گیا ہے (حالانکہ فجر رات کے بعد ہوتی ہے) کہ یہ امر واضح تھا کہ رات سے پہلے فجر نہیں ہوتی بلکہ بعد میں ہوتی ہے۔باقی رہا یہ امر کہ فجر کا ذکر پہلے اور راتوں کا ذکر بعد میں کرنے کی وجہ کیا ہے؟ سو اس کا جواب یہ ہے کہ فجر کے لفظ میں ایک خوشخبری تھی اور دنیا میں یہ ایک عام طریق ہے کہ جب ہم اپنے دوست سے کسی ایسے واقعہ کا ذکر کرتے ہیں جو تکلیف دہ ہو لیکن اس کا انجام اچھا ہو تو ہم اس کے خوش انجام کا ذکر پہلے کر دیتے ہیں اور غم انگیز حصہ کو بعدمیں بیان کرتے ہیں تا اسے زیادہ صدمہ نہ ہو۔مثلاًاگر ہمارا کوئی دوست بیمار ہو اور کوئی شخص اس کی تیمارداری کے لئے جائے اور اس بیمار کی حالت پہلے سے اچھی ہو