تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 173
بعض ٹکڑوں کا الگ ذکر کیا جائے تو پھر لازمًا ان ٹکڑوں کے ذکر سے کوئی مزید شہادت کا حاصل ہونا ضروری ہو گا۔لیکن وَالَّیْلِ اِذَایَسْرِ کی کوئی خاص شہادت ان مفسرین نے بیان نہیں کی۔اگر یہ کہا جائے کہ یہ چاروں مضمون الگ الگ شہادت نہیں رکھتے بلکہ مل کر ایک شہادت بنتے ہیں تو ہم اس کو بھی ماننے کے لئے تیار ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ حج کے ساتھ فجر اور شفع اور وتر اور وَالَّیْلِ اِذَایَسْرِ مل کر کیا شہادت پیدا کرتے ہیں۔اگر لَیَالٍ عَشْرٍ کے ساتھ فجر کو نہ ملایا جاتا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے پورا ہونے میں کیا کمی رہ جاتی۔اگر شفع اور وتر کا ذکر نہ کیا جاتا تو کون سا امر مخفی رہ جاتا یا وَالَّیْلِ اِذَایَسْرِ کا ذکر اگر نہ ہوتا تو دس راتوں کی شہادت اور ان کے معجزہ میں کون سا نقص رہ جاتا؟ ہم مانتے ہیں کہ بعض دفعہ دلیل کو نمایاں کرنے کے لئے اس کے مختلف حصے کر دیئے جاتے ہیں مگر ایسا تبھی کیا جاتا ہے جب ان مختلف حصوں پر زیادہ زور دے کر دلیل کو نمایاں اور روشن کرنا مقصود ہو۔بلاوجہ ایک دلیل کے مختلف حصے نہیں کئے جاتے۔اگر فجر اور شفع اور وتر اور وَالَّیْلِ اِذَایَسْرِ کے مفہوم میں لَیَالٍ عَشْرٍ کی بعض خصوصیات کا ذکر کیا جاتا تو ہمیں اس کو تسلیم کرنے میں کوئی عذر نہ ہوتا۔ہم سمجھتے کہ گو فجر اور شفع اور وتر اور وَالَّیْلِ اِذَایَسْرِ کا دس راتوں سے جن کا وہ حصہ ہیں علیحدہ طور پر بھی ذکر کیا گیا ہے مگر اس ذکر کی غرض ان امور کی اہمیت کی طرف اشارہ کرنا ہے اور ان پر زور دینے کے لئے الگ بیان کیا گیا ہے ورنہ اصولًا یہ تمام حصے دس راتوں میں ہی شامل ہیں اور ہر حصہ اس دلیل کا ایک مفید اور ضروری حصہ ہے مگر افسوس تو یہ ہے کہ مفسرین کی طرف سے لَیَالٍ عَشْرٍ کے جو معنے کئے جاتے ہیں ان میں نہ فجر کا ذکر دلیل کا کوئی حصہ بنتا ہے نہ شفع اور وتر کا ذکر کوئی معنے رکھتا ہے اور نہ وَالَّیْلِ اِذَایَسْرِ کا کوئی مفہوم ثابت ہوتا ہے گویا ایسے معنے کئے جاتے ہیں جو کسی صورت میں بھی آیاتِ قرآنیہ سے مطابقت نہیں رکھتے۔دوسری تو جیہ محرم کی راتوں کی ہے۔اس میں بھی اگر تو صرف اتنا ہوتا کہ وَالْفَجْرِ وَلَیَالٍ عَشْرٍ تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ توجیہ چسپاں ہو جاتی اور ہمیں اس تفسیر کو درست تسلیم کرنا پڑتا کیونکہ حدیثوں میں آتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں یہ وہ دن ہیں جن میںحضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون پر غلبہ ملا اور سمندر سے نجات حاصل ہوئی۔اور اسی طرح کا ایک واقعہ میری اُمت میں بھی آئندہ زمانہ میں ہو گا (ترمذی ابواب الصوم)پس جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کا واقعہ ذی الحجہ کی دس راتوں پر چسپاں ہو سکتا ہے اسی طرح اگر وَالْفَجْرِ وَلَیَالٍ عَشْرٍ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس عظیم الشان واقعہ کی طرف اشارہ سمجھا جائے تو کوئی بڑے سے بڑا معترض بھی اس