تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 174
کی عظمت اور اہمیت سے انکار نہیں کر سکتا۔اس صورت میں وَالْفَجْرِ سے محرم کی دسویں رات کی صبح مراد لے لی جائے گی اور لَیَالٍ عَشْرٍ سے محرم کی ابتدائی دس راتیں۔کیونکہ ان دس راتوں میں سے کچھ وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام کا فرعون سے بحث کرنے میں گذرا ہو گا۔کچھ وقت سامانِ سفر کو درست کرنے میں صرف ہوا ہو گا اور اس لحاظ سے ان تمام راتوں کو ہی خدا تعالیٰ کا ایک نشان قرار دینا پڑے گا۔بہرحال اگر صرف وَالْفَجْرِ وَلَیَالٍ عَشْرٍ تک ہی آیت ہوتی تو ہم تسلیم کر لیتے کہ فجر سے مراد وہ فجر ہے جب حضرت موسٰی علیہ السلام مصر سے بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر نکلے اور فرعون سمندر میں غرق ہوا۔اور لَیَالٍ عَشْرٍ سے مراد محرم کی ابتدائی دس راتیں ہیں کیونکہ وہ سب کی سب خدا تعالیٰ کے اس نشان کی مظہر ہیں کہ بنی اسرائیل نے موسٰی کی پیروی میں فرعون کے مظالم سے نجات حاصل کی۔مگر اس موقع پر بھی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ کا اس واقعہ سے کیا جوڑ ہوا یہ بالکل تشنہء تفسیر رہ جاتا ہے۔اسی طرح یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر حضرت موسٰی علیہ السلام کے واقعہ کی طرف اس میں اشارہ ہے تو وَالَّیْلِ اِذَایَسْرِ کے کیا معنے ہوئے اور محرم کی دس راتوں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ سے اس رات کا جوڑ کیا ہے؟ اگر صرف فجر اور دس راتوں کا ذکر ہوتا تو عقلی طور پر ہمیں اس توجیہ کو تسلیم کرنے میں ہرگز کوئی عذر نہیں تھا جس طرح عقلی طور پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کے واقعہ پر ذوالحجہ کی دس راتیں یا یوم النحر کی فجر چسپاں ہو سکتی ہے اسی طرح عقلی طور پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا یہ واقعہ بھی چسپاں ہوسکتا ہے۔پس اگر صرف اتنی ہی آیت ہوتی تو کوئی شخص اس واقعہ کی اہمیت کا انکار نہیں کر سکتا تھا بلکہ ہر شخص کے نزدیک یہ شہادت ایک اہم شہادت ہوتی۔ایک اہم قسم ہوتی اور عرفان بخش قسم ہوتی مگر اگلی دو آیتیں ہمیں اس طرف بھی جانے نہیں دیتیں۔تیسری توجیہ رمضان کی دس راتوں کی ہے اس میں اوّل تو اختلاف ہے۔بعض روایات میں پہلی دس اور بعض میں آخری دس راتوں کو ان کا مصداق قرار دیا گیا ہے مگر پہلی ہوں یا پچھلی سوال یہ ہے کہ رمضان کی راتیں کس امر کی شہادت دیتی ہیں۔یہ سورۃ ابتدائی سالوں کی ہے اور اس پر قریباً سب کا جو کوئی رائے رکھ سکتے ہیں اتفاق ہے لیکن رمضان کے روزے فرض ہوتے ہیں مدینہ میں۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے ہیں تو اس وقت تک رمضان کے روزے فرض نہیں ہوئے تھے دوسرا ماہ رمضان جو مدینہ میں آیا اس وقت یہ روزے اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرض ہوئے (طبری زیر عنوان السنۃ الثانیۃ من الھجرۃ) اب بتاؤ کہ کیا کوئی بھی معقول انسان اس توجیہ کو مان سکتا ہے خواہ زمانۂ حال کا کوئی مفسر ہو یا ماضی کا مجھے بتائے کہ کیا یہ بھی اللہ تعالیٰ کی ہستی اور اس کی قدرت کی کوئی دلیل ہے کہ لوگوں سے کہا جائے ہم صداقت کے ثبوت کے طور پر یہ بات پیش