تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 172 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 172

پیدا ہوتا ہے کہ یہ کون سی لیل ہے جس کا ذکر کیا جا رہا ہے یا دس راتوں میں سے کس خاص رات کی طرف اس میں اشارہ کیا گیا ہے اور جب یہ دسوں راتوں میں سے ہی ایک رات تھی تو کیوں وَلَیَالٍ عَشْرٍ کے بعد شفع اور وتر کا ذکر کرکے اس رات کا ذکر کیا گیا ہے شفع اور وتر کو درمیان میں لا کر اسے ان دس راتوں سے جن کا یہ حصہ ہے الگ کیوں کر دیا گیا ہے؟ پھر سوال یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے پہلے دس راتوں کا ذکر کیا تھا تو ان دس راتوں کے چلے جانے کا مضمون اس میں خود بخود آگیا تھا بلکہ فجر کا لفظ بھی آ چکا تھا جو ان راتوں کے گذر جانے کی طرف اشارہ کر رہا تھا اس قدر وضاحت کے بعد دوبارہ وَالَّیْلِ اِذَایَسْرِ کہنے کا کیا مطلب ہوا۔اگر کہو کہ اس کے معنے رات کے جانے کے نہیں بلکہ آنے کے ہیں تو یہ اور بھی لطیفہ ہے کہ دس راتیں آئیں اور گذر بھی گئیں مگر ان کا ذکر مکمل کر چکنے کے بعد بلکہ ان کے بعد شفع اور وتر کے الفاظ کہہ کر ایام منٰی کا ذکر کر دینے کے بعد پھر ان دس میں سے پہلی رات کے آنے کا دوبارہ ذکر کرنا شروع کر دیا گیا۔اگر اس پہلی رات کے آنے میں کوئی نشان تھا تو وہ تو دس راتوں کے ذکر میں بیان ہو چکا اور اگر دس راتوں میں کوئی نشان تھا تو شفع اور وتر کا ذکر شروع کر کے اس نشان کے بیان کو ختم کر دیا گیا پھر نئے سرے سے پہلی رات کے ذکر کے کیا معنے ہوئے اگر کہا جائے کہ وہی فجر کا مضمون اس جگہ دہرایا گیا ہے تو یہ بھی بتانا چاہیے کہ وَالْفَجْرِ میں کون سی کمی رہ گئی تھی جسے وَالَّیْلِ اِذَایَسْرِ میں بیان کیا گیا ہے۔پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس سے ذی الحجہ کی پہلی رات مراد ہے تو پہلی رات کی فجر کیا ثابت کرتی ہے؟ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اس سے آخری رات کی فجر مراد ہے لیکن ہمیں اس سے بحث نہیں پہلی رات کی فجر مراد ہو یا آخری رات کی۔سوال یہ ہے کہ اس رات کی خصوصیت کیا ہے جس کی وجہ سے اس کا علیحدہ ذکر کیا گیا ہے اور ذوالحجہ کی پہلی یا آخری رات کی فجر میں کون سی ایسی بات پائی جاتی ہے جس سے کفار پر حجت تمام ہو سکتی ہے یا اللہ تعالیٰ کی قدرت ان پر ظاہر ہو سکتی ہے؟ جب قسم شہادت کے لئے ہوتی ہے تو پہلی رات یا آخری رات کی فجر کس امر کی شہادت دیتی ہے اور دس راتیں کس امر کی شہادت دیتی ہیں؟ میںبتا چکا ہوں کہ اگر حج کی وجہ سے ان راتوں کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سچائی کا ثبوت قرار دیا جائے تو یہ ایک معقول بات ہو گی مگر پھر یہی سوال پیدا ہو گا کہ یہ تو مان لیا کہ یہ راتیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی صداقت کا ثبوت ہیں مگر پہلی رات کی فجر کس امر کا ثبوت دیتی ہے اور پھر آخری رات کسی خاص امر کی شہادت دیتی ہے یا کس مضمون کو مکمل کرتی ہے؟ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ کسی کُل کے ذکر پر اس کے ہر ٹکڑے کا مستقل طور پر الگ الگ شہادت دینا ضروری نہیں مگر جب کُل کے ذکر کے بعد یا پہلے