تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 170 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 170

اس کی زندگی کا ایک ایک لمحہ خطرہ میں تھا مگر اللہ تعالیٰ نے پیش از وقت بتا دیا کہ یہ قربانی ضائع نہیں جائے گی۔مکہ مرجعِ خلائق بنے گا اور خدا تعالیٰ کے اس نشان کو قیامت تک یاد رکھا جائے گا۔اگر اس واقعہ کی یادگار منائی جائے تو کوئی شبہ نہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے ایک زبردست ثبوت کی یادگار ہو گی اور اگر یہ واقعہ دنیا کے سامنے پیش کیا جائے تو کوئی احمق ہی ہو گا جو اس کا انکار کرے اور کہے کہ اس سے خدا تعالیٰ کا جلال ظاہر نہیں ہوتا۔پس اگر خالی لَیَالٍ عَشْرٍ کا ذکر ہوتا تو میرے لئے یہ بات حل شدہ تھی اور میں بغیر کسی جھجک کے کہہ سکتا تھا کہ ان سے مراد ذی الحجہ کی دس راتیں ہی ہیں کیونکہ یہ راتیں اس عظیم الشان قربانی کی طرف اشارہ کرتی ہیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت کی لیکن مشکل یہ ہے کہ یہاں لَیَالٍ عَشْرٍ کے ساتھ وَالْفَجْرِ کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔اگر کہو کہ اس سے مراد کوئی اور فجر ہے تو پھر بتانا چاہیے کہ وہ کون سی فجر ہے اور اگر کہو کہ لَیَالٍ عَشْرٍ میں سے آخری رات کی فجر مراد ہے تو سوال یہ ہے کہ اس فجر میں کیا خصوصیت ہے کہ اس کا علیحدہ ذکر کیا گیا ہے اور پھر اس کا راتوں سے پہلے کیوں ذکر کیا گیا ہے۔دس دنوں کی فضیلت تو سمجھ میں آ سکتی تھی کیونکہ انسان پہلے قربانی کا ارادہ کرتا ہے پھر اس ارادہ کے مطابق سامان مہیا کرتا ہے اور آخر وہ وقت آتا ہے جب وہ اس قربانی کو ادا کر دیتا ہے اس نقطۂ نگاہ کے ماتحت بجائے یوم النحر کے اگر ہم سب کے سب دنوں کو مبارک کہہ دیں تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں لیکن سوال یہ ہے کہ ان دس راتوں کی آخری فجر میں کون سی ایسی خاص بات پائی جاتی ہے جسے ہم کفار کے سامنے پیش کر سکیں اور ان سے منوا سکیں کہ یہ فجر بھی خدا تعالیٰ کی قدرتوں کا ایک زبردست نشان ہے مگر یہ بات نہ مفسرین نے بیان کی ہے اور نہ ہی میری سمجھ میں آتی ہے۔لَیَالٍ عَشْرٍ میں تو یقیناً ایسا نشان ہے جسے بادلائل کفار کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے اور انہیں خدا تعالیٰ کی قدرت کا قائل کیا جا سکتا ہے مگر لَیَالٍ عَشْرٍ کے ساتھ فجر کا کوئی جوڑ نظر نہیں آتا۔اسی طرح مفسرین نے لَیَالٍ عَشْرٍ کی تفسیر تو بیان کر دی مگریہ نہیں بیان کیا کہ ان کے ساتھ وہ کون سے شفع اور وتر ہیں جو ایک نشان کا کام دیتے ہیں اور جن کو اللہ تعالیٰ شہادت کے طور پر پیش کر رہا ہے۔آخر شفع اور وتر میں کون سی ایسی دلیل ہے جس سے خدا تعالیٰ کی ہستی کا ثبوت ملتا ہے یا جسے کسی نشان کی شہادت کے طور پر لوگوں کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے۔یہ کہنا کہ دو۲ دن پہلے چلے جاؤ یا تیسرے دن چلے جاؤ یہ ایک حکم تو ہے مگر نشان اور معجزہ تو نہیں یا اس سے خدا تعالیٰ کی کسی قدرت کا تو ثبوت نہیں ملتا اور محض حکم سے ایک کافر کیونکر سبق حاصل کر سکتا ہے یا کافر پر اس بات سے کیا حجت ہو سکتی ہے کہ ہم نے کہہ دیا ہے کہ چاہو تو دو دن ٹھہرو اور چاہو تو تین دن ٹھہرو۔