تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 171
میں سمجھتا ہوں ایک بے وقوف سے بےوقوف کے سامنے بھی یہ بات بیان کی جائے تو وہ ہنس پڑے گا اور کہے گا کہ اس میں خدا تعالیٰ کی ہستی یا اس کی قدرت کا کیا ثبوت ہے۔آپ ہی کہہ دیا کہ دو دن ٹھہر کر آ جاؤ اور آپ ہی کہہ دیا کہ اگر چاہو تو تین دن ٹھہر کر آ جاؤ۔اس میں کون سی ایسی خاص بات ہے جس کی بنا پر قسم کھا کر اس کا ذکر کیا گیا ہے یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے معمولی طور پر شفع اور وتر کا ذکر نہیں کیا۔بلکہ فرمایا ہے میں قسم کھاتا ہوں شفع کی اور میں قسم کھاتا ہوں وتر کی۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی شفع ہے جو کفار پر حجت تمام کرتا ہے اور کوئی وتر بھی ہے جس سے الگ طور پر کفار پر حجت تمام ہوتی ہے یا شفع اور وتر دونوں مل کر حجت پوری کرتے ہیں مگر یہ تینوں باتیں ذوالحجہ کے کسی شفع یا وتر میں نہیں پائی جاتیں۔پھر ایک اور اعتراض یہ پیدا ہوتا ہے کہ مفسرین جو معنے کرتے ہیں اور جن میں سے بعض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک بھی پہنچائے جاتے ہیں ان میں وتر کا پہلے ذکر آتا ہے اور شفع کا بعد میں۔لیکن قرآن کریم میں شفع کا پہلے ذکر آتا ہے اور وتر کا بعد میں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ کہ میں شفع کو شہادت کے طور پر پیش کرتا ہوں اور میں وتر کو بھی شہادت کے طور پر پیش کرتا ہوں۔اور شفع کے معنے کئے گئے ہیں دسویں ذی الحجہ کے اور وتر کے معنے کئے گئے ہیں نویں ذی الحجہ کے۔ہر شخص جانتا ہے کہ نو۹ پہلے ہوتا ہے اور دس۱۰ بعد میں ہوتا ہے یعنی وتر پہلے ہے اور شفع بعد میں۔مگر قرآن نے شفع کا ذکر پہلے کیا ہے اور وتر کا ذکر بعد میں کیا ہے اگر تو وَالْوَتْرِ وَالشَّفْعِ ہوتا تو یہ بات بن جاتی کہ وتر سے نویں ذی الحجہ مراد ہے اور شفع سے دسویں ذی الحجہ۔مگر قرآن کریم نے شفع کا پہلے اور وتر کا بعد میں ذکر کیا ہے اور اس جگہ کوئی ایسی وجہ بھی نہیں بتائی گئی جس کی بنا پر ہم اس ذکر کو آگے پیچھے کر سکیں اور کہہ سکیں کہ فلاں وجہ سے دسویں رات کا ذکر پہلے کیا گیا ہے اور نویں رات کا ذکر بعد میں کیا گیا ہے۔بعض لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ وزن ملانے کے لئے ایسا کیا گیا ہے مگر ہم یہ تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ قرآن کریم صرف وزن کی خاطر الفاظ کو آگے پیچھے کر دیتا ہے۔اگر یہاں شفع اور وتر کا آگے پیچھے ذکر ہے تو ضرور اس کی وجہ ہونی چاہیے اور وہ دلیل دینی چاہیے جس کی بنا پر شفع کا پہلے اور وتر کے بعد میں ذکر کیا گیا ہے مگر ایسی کوئی دلیل مفسرین کی طرف سے پیش نہیں کی گئی۔اس کے علاوہ یہ بھی سوال ہے کہ وَالَّیْلِ اِذَایَسْرِ سے کیا مراد ہے۔اگر دس راتوں سے ذی الحجہ کی دس راتیں ہی مراد ہیں تو پھر یہ کون سی رات ہے جس کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ وہ چلی گئی۔لیل سے مراد شام سے صبح تک کا وقت ہوتا ہے۔جب لَیَالٍ عَشْرٍ میں ساری دس راتیں آ چکی تھیں تو یہ کون سی نئی رات ہے جس کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ چلی گئی یا کون سی نئی رات ہے جو آگئی۔چلی گئی کہہ لو یا آگئی کہہ لو دونوں صورتوں میں سوال