تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 169 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 169

مان لیا اس بارہ میں شدید اختلافات پائے جاتے ہیں مگر تم ان میں سے کسی ایک بات کو ترجیح دے دو اور اس جھگڑے کو نپٹا دو۔آخر جب ہم نے اجتہاد سے ہی اس آیت کی تفسیر کرنی ہے تو ہم ان مختلف بیانات میں سے کسی ایک کو جس کی طرف لوگوں کا زیادہ میلان پایا جاتا ہے کیوں درست تسلیم نہیں کر لیتے اور کیوں سب کو ناقابل قبول سمجھنے لگ جاتے ہیں۔بے شک اختلافات ہیں لیکن اس اختلاف کو دور کرنے کا طریق یہ ہے کہ کسی ایک قول کو ترجیح دے دی جائے۔سورۂ فجر کی پہلی چار آیات کی پہلے مفسرین کی تفسیر قبول نہ کئے جانے کی وجہ میرے نزدیک بھی یہ صورت بالکل ممکن تھی کہ باوجود اختلافات کے ہم کسی ایک قول کو ترجیح دے دیتے اور دوسروں کو ردّ کر دیتے مگر مشکل یہ ہے کہ اس طرح بھی قرآن کریم کی یہ آیات حل نہیں ہوتیں۔میں دیکھتا ہوں کہ سب سے زیادہ زور ذی الحجہ کی دس راتوں پر دیا گیا ہے مگر اس تاویل کے ساتھ فجر کی کوئی معقول تفسیر بیان نہیں کی گئی۔اگر اللہ تعالیٰ نے صرف دس راتوں کا ذکر کیا ہوتا تو ہم کہہ سکتے تھے کہ اس سے مراد ذی الحجہ کی دس راتیں ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے دس راتوں کے ساتھ ایک فجر کا بھی ذکر کیا ہے جو ان سے پہلے ہے۔وہ فرماتا ہے وَالْفَجْرِ وَلَیَالٍ عَشْرٍ ہم شہادت کے طور پر فجر کو پیش کرتے ہیں اور ہم شہادت کے طور پر اس فجر کے ساتھ دس راتوں کو پیش کرتے ہیں اگر ان دس راتوں سے مراد ذی الحجہ کی دس راتیں ہیں تو سوال یہ ہے کہ پھر فجر سے کون سی فجر مراد ہے اگر دس راتوں کی آخری فجر مراد ہے تو اس میں کس بات کی شہادت مخفی ہے کون سا اہم امر شریعت سے تعلق رکھنے والا ایسا ہے جو ذی الحجہ کی دسویں رات کی صبح کے ساتھ خصوصیت رکھتا ہے اور وہ صبح خدا تعالیٰ کی قدرت یا اس کے دین کی صداقت کی شہادت دیتی ہے۔اور پھر اس میں کیا حکمت تھی کہ صبح آئی تو دس راتوں کے بعد لیکن اس کا ذکر دس راتوں سے پہلے کر دیا گیا۔اگر صرف دس راتوں کا ذکر ہوتا تو ہمیں ان کی بات تسلیم کرنے میں کوئی عذر نہیں تھا ہم سمجھتے کہ ان دس راتوں کا خدا تعالیٰ نے اس لئے ذکر کیا ہے کہ یہ راتیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کے واقعہ کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔خدا تعالیٰ نے ان سے ایک وعدہ کیا تھا جسے اس نے پورا کیا اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے کو زندگی بخشی اور اس کے ذریعہ ہمیشہ کے لئے دنیا میں ایک نشان قائم کر دیا یہ واقعہ میں ایک بڑا بھاری نشان تھا اور اس نے دنیا پر ثابت کر دیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیاروں سے جو وعدے کیا کرتا ہے مخالف حالات کے باوجود وہ ان وعدوں کو پورا کرتا اور انہیں دنیا میں عزت اور کامیابی عطا کرتا ہے۔ابراہیمؑ نے خدا تعالیٰ پر توکل کیا اور اس نے اپنے بیٹے کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت ایک بے آب وگیاہ جنگل میں چھوڑ دیا۔بظاہر