تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 156
سورۃ الغاشیہ کا آپس میں تعلق بتاتے ہوئے ذکر کیا تھا کہ یہ دونوں سورتیں رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم جمعہ اور عیدین کی نمازوں میں بالالتزام پڑھا کرتے تھے اور یہ دونوں سورتیں ایسی ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی ترقی اور آنے والے موعود کی خبر یکجائی طور پر اپنے اندر رکھتی ہیں یا اگر ایک ٹکڑہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کا ذکر آتا ہے تو بعد کے ٹکڑہ میں آنے والے موعود کا ذکر کیا گیا ہے۔یا مثال تو ایک ہی دی ہے مگر وہ مثال ایسی ہے جو وہاں بھی چسپاں ہو جاتی ہے اور یہاں بھی چسپاں ہو جاتی ہے گویا دو دھاری تلوار ہے جس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے مخالفین پر بھی حجت تمام ہو جاتی ہے اور بعد میں پیدا ہونے والے مخالفین پر بھی حجت تمام ہو جاتی ہے۔اسی سلسلہ میں مَیں نے بتایا تھا کہ اِنَّهٗ يَعْلَمُ الْجَهْرَ وَ مَا يَخْفٰى(الاعلٰی :۸) میں بھی آنے والے موعود کی ضرورت بیان کی گئی ہے اور خبر دی گئی ہے کہ اس زمانہ میں قرآن کریم کا ظاہر تو باقی ہو گا مگر اس کا مغز نہیں ہو گا۔تب اس موعود کے ذریعہ اللہ تعالیٰ قرآنی علوم کو دنیا میں پھر زندہ کرے گا اور پھر اس کے مغز کو دنیا میں واپس لائے گا۔اسی طرح وُجُوْہٌ يَّوْمَىِٕذٍ خَاشِعَۃٌ عَامِلَۃٌ نَّاصِبَۃٌ میں دونوں زمانوں کی مخالفت اور اسلام کی ترقی کا ذکر کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ جب بھی اسلام پر کمزوری کا زمانہ آئے گا اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کمزوری کو دور کرنے کا سامان کیا جائے گا۔اسلام اور مسلمانوں کی ترقی اگر ہو سکتی ہے تو اسی ذریعہ سے، اس کے بغیر ان کی ترقی کا کوئی ذریعہ نہیں۔یہ مضمون ہے جو مسلسل کئی سورتوں سے چلا آ رہا ہے اور جس کی وجہ سے ہر سورۃ اپنے سے پہلی سورۃ سے بالکل مربوط نظر آتی ہے۔سورۃ الفجر کاتعلق پہلی سورۃ سے وہ گہرا تعلق جو اس سورۃ کو پہلی سورۃ سے حاصل ہے یہ ہے کہ پہلی سورۃ میں بتایا گیا تھا کہ اسلام کا مقابلہ کفارِ مکہ کریں گے اور ہر قسم کی تدابیر اسلام کے خلاف کریں گے لیکن کامیاب نہ ہوں گے بلکہ ان کے مقابل پر مسلمان کامیاب ہوں گے۔دوسرے یہ بتایا تھا کہ آئندہ بھی اسلام پر جب کبھی خطرناک وقت آئے گا خدا تعالیٰ اسلام کی مدد کرے گا اور اُ س کے مخالف آخر شکست کھائیں گے۔اس سورۃ میں اس مضمون کی مزید وضاحت کی گئی ہے اور تفصیل بھی بیان کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ وُجُوْہٌ جو خَاشِعَۃٌ عَامِلَۃٌ نَّاصِبَۃٌ کے مصداق ہوں گے کس طرح عمل اور محنت کریں گے اور کس طرح اللہ تعالیٰ ان وُجُوْہ کو دنیا میں پیدا کرے گا جو نَاعِـمَةٌ لِّسَعْيِهَا رَاضِيَةٌ کے مصداق ہوں گے۔ظاہر ہے کہ نبوت کے تیسرے سال میں تو یہ دونوں وُجُوْہ پوشیدہ تھے نہ خَاشِعَۃٌ عَامِلَۃٌ اور نہ نَاصِبَۃٌ پائے جاتے تھے کیونکہ منظم مخالفت ابھی کفارِ مکہ نے شروع نہیں کی تھی اور نہ یہ پتہ تھا کہ نَاعِـمَةٌ وُجُوْہ کون ہوں گے اور کہاں سے آئیں گے کیونکہ مومنوں کی تعداد