تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 155 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 155

نے اس امر کی طرف بھی اشارہ کر دیا کہ قرآن کریم کو بے ترتیب نہ سمجھنا یہ خدا تعالیٰ کی وحی ہے اور اس کا ہر حصہ دوسرے حصہ سے پرویا ہوا ہے۔اس وسیع اور لمبے سلسلہ کی طرف علامہ ابو حیان کی نظر نہیں گئی مگر پھر بھی ان کی خدمت ترتیبِ قرآن کریم کے بارہ میں بہت قابل قدر اور قابلِ ستائش ہے جَزَاہُ اللہُ اَحْسَنَ الْـجَزَاء۔جیسا کہ میں نے اوپر بتایا ہے سورتوں کے باہمی تعلقات دو قسم کے ہوا کرتے ہیں۔ایک قریبی تعلق جس میں یہ مدنظر رکھا جاتا ہے کہ ایک سورۃ کی آخری آیت کا مضمون دوسری سورۃ کی پہلی آیت سے ملا دیا جائے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے سورۂ فاتحہ میں اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ کہہ کر ہدایت کے متعلق دعا مانگی گئی تھی اس کے بعد سورۂ بقرہ شروع ہوئی تو ابتدا میں ہی کہہ دیا گیا کہ الٓمّٓ۔ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ١ۛۖۚ فِيْهِ١ۛۚ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۠ گویا سورۃ فاتحہ میں جو ہدایت طلب کی گئی تھی سورۂ بقرہ کے شروع میں اس ہدایت کی نسبت بتا دیا کہ جو کچھ تم مانگ رہے تھے وہ یہ ہے اس قسم کے تعلقات جو باہم سورتوں میں پائے جاتے ہیں قریبی تعلق کہلاتے ہیں۔لیکن سورتوں کا ایک تعلق سارے مضمون کے لحاظ سے ہوتا ہے اور مسلسل ایک قسم کا مضمون کئی سورتوں میں چلتا چلا جاتا ہے۔اس تعلق کے لحاظ سے اگر سورتوں پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بعض جگہ پانچ پانچ اور بعض جگہ دس دس سورتوں کا ایک گروپ ہوتا ہے اور ان کا مضمون زنجیر کے تسلسل کی طرح آپس میں ملتا چلا جاتا ہے۔چنانچہ جو مضمون اس سورۃ کو چند پچھلی سورتوں کے مجموعہ کا ایک فرد بنا دیتا ہے اس کا ذکر میں پہلے کر چکا ہوں اور وہ یہ ہے کہ ان چند سورتوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت دو زمانوں کے لحاظ سے بیان کی جا رہی ہے یہ مضامین سورۂ تکویر سے شروع ہیں اور ان میں بتا یا جا رہا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے محض اس زمانہ میں ہی ثبوت مہیا نہیں ہوں گے بلکہ جب بھی اسلام کمزور ہو گا اس صداقت کے ثبوت اللہ تعالیٰ کی طرف سے مہیا کئے جائیں گے۔اسی تسلسل میں سورۂ بروج میں بتایا گیا تھا کہ آخری زمانہ میں دنیا کی خرابی کے وقت ایک بدر پیدا ہوگا مگر چونکہ اس سے یہ شبہ پیدا ہوتا تھا کہ نورِ محمدی گو دنیا کو فائدہ دے گا مگر رہے گا اوجھل اور براہ راست نظر نہ آئے گا اس لئے اس شبہ کا ازالہ سورۂ طارق میں کیا اور بتایا کہ آنے والا موعود دو الگ الگ نام رکھے گا بدر بھی اور طارق بھی یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے جلا ل کو وہ براہ راست ظاہر کرے گا یہ نہیں ہو گا کہ لوگ صرف سن کر ایمان لائیں گے بلکہ وہ ایسی جماعت پیدا کرے گا جس کا خدا تعالیٰ سے براہ راست تعلق ہو گا اور وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے انوار اور آپ کی برکات اپنی ذات میں مشاہدہ کریں گے۔گویا سورۂ بروج میں مسیحیت موعودہ کی پیشگوئی کی طرف اشارہ کیا گیا تھا اور سورۂ طارق میں مہدویت مبشرہ کی پیشگوئی کی طرف اشارہ کیا گیا تھا۔پھر میں نے سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلٰى اور