تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 144
الرَّجْعِ (الطارق:۱۲) میں سـماء کے معنے بادل کے ہیں۔اَفَلَا يَنْظُرُوْنَ اِلَى الْاِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ میں کفار مکہ کی مشابہت اِ بِل سے اہل مکہ کا طریق تھا کہ وہ ہمیشہ فخر ومباہات سے کام لیا کرتے تھے اور تکبّر میں مبتلا ہونے کی وجہ سے اپنی شان اور وجاہت کا بار بار ذکر کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ ہم ایسی شان والے۔ہم اتنا بلند مرتبہ رکھنے والے۔ہم ایسے اور ہم ویسے مسلمان بھلا ہمارے مقابلہ میں جیت سکتے ہیں۔اس کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم اپنی شانیں تو بیان کرتے ہو مگر تمہاری حالت بالکل اونٹوں کی سی ہے۔اونٹ بے شک اونچا ہوتا ہے مگر جانتے ہو وہ ہمیشہ دوسرے کی سواری کے ہی کام آتا ہے بے شک اس کی کوہان اونچی ہوتی ہے، اس کا قد اونچا ہوتا ہے، اس کی ٹانگیں لمبی ہوتی ہیں، اس کا جسم بڑا ہوتا ہے مگر اس کے باوجود وہ ہمیشہ دوسروں کے نیچے رہتا ہے۔اسی طرح تم خواہ اپنی کس قدر شانیں بیان کرتے رہو۔تمہیں وہ قویٰ ہی نہیں دیئے گئے کہ تم حکومت کر سکو۔تم ہمیشہ اسی قابل رہو گے کہ لوگ تمہاری گردنوں پر سوار ہو ں جیسے اونٹ بے شک اونچا ہوتا ہے مگر اونچا ہونے کے باوجود اسے نیچا ہونا پڑتا ہے اور ایک دوسرا شخص اس کی پیٹھ پر سوار ہو جاتا ہے۔پس تم اپنی خوبیاں خواہ کتنی گنتے جاؤ تم اِ بِل کے مشابہ ہو اور اونٹ ہمیشہ سواری ہی دیتے ہیں۔اوپر چھانے والے بادل ہوتے ہیں اونٹ نہیں ہوتے تم اونٹوں کی طرح ہمیشہ دوسروں کی سواری کے کام آتے رہے ہو کبھی دنیا پر تم نے حکومت نہیں کی۔لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے صحابہؓ سـماء ہیں پس تمہاری اور ان کی آپس میں کوئی نسبت ہی نہیں۔یہ بادلوں کی طرح دنیا پر چھا جانے والے ہیں اور تم خواہ کتنے اونچے ہو جاؤ بہرحال تمہاری پیٹھ پر دوسرے لوگ سوار ہوں گے چنانچہ عربوں کو دیکھ لو انہوں نے کئی صدیوں سے دنیا پر حکومت نہیں کی تھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ سے ان کی تاریخ محفوظ ہے اور اس سے پتہ لگتا ہے کہ وہ ہمیشہ دوسروں کے محکوم چلے آتے تھے کسی قسم کا غلبہ ان کو حاصل نہیں ہوا تھا لیکن وہی قوم جو پچیس۲۵۰۰ سو سال سے بالکل ذلیل چلی آتی تھی جس کو ہر لحاظ سے ادنیٰ قرار دیا جاتا تھا۔جسے دنیا میں کہیں غلبہ حاصل نہ تھا اور جس کے افراد کو حکومت کا کوئی شعور نہیں تھا جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں آئی اور آپ کے دامن کو اس نے چھؤاتو وہ دیکھتے ہی دیکھتے کہیں سے کہیں جا پہنچی اورد نیا کی فاتح اور حکمران بن گئی اور بادلوں کی طرح دنیا پر چھا گئی۔پس آیت میں کفار کو اونٹوں سے مشابہت دی ہے کہ باوجود اونچا ہونے کے سواری کے کام آتے ہیں اور مسلمانوں کو بادلوں سے مشابہت دی ہے کہ نظر نہ آنے والے ذرّوں سے بنتا ہے اور آخر بلند ہو کر دنیا پر چھا جاتا ہے اور اسے سیراب کر دیتا ہے۔