تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 143
ہے۔اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ یہاں دو الگ الگ مضمون بیان ہوئے ہیں۔ایک مضمون میں نیچے سے اوپر کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور دوسرے مضمون میں اوپر سے نیچے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔اگر ان آیات میں دو الگ الگ مضمون تسلیم نہ کئے جائیں تو پھر اِ بِل، سَـمَاء، جبال اور ارضمیں کوئی بھی ترتیب نظر نہیں آتی۔ترتیب کے لحاظ سے مدارج دو ہی طرح بیان کئے جا سکتے ہیں یا نیچے سے اوپر کی طرف مضمون کو لے جایا جائے یا اوپر سے نیچے کی طرف۔اب اس آیت میں پہلے اونٹوں کاذ کر ہے پھر سَـمَاء کا۔یہاں تک تو ترتیب درست ہے یعنی نیچے سے اوپر کی طرف مضمون لے جایا گیا ہے مگر اس کے بعد پہاڑوں کا ذکر ہے جو نہ سَـمَاء سے اونچے ہیں نہ ان کے برابر۔اور اس کے بعد زمین کا ذکر ہے جو پہاڑوں سے اونچی نہیں ہوتی۔دوسری ترتیب یہ ہوتی ہے کہ اوپر سے نیچے کی طرف آیا جائے مگر اس لحاظ سے بھی بات نہیں بنتی کیونکہ اونٹ جو چھوٹی چیز ہے اس کا پہلے ذکر کر دیا گیا ہے اور سَـمَاء جو بلند چیز ہے اس کا بعد میں ذکر کیا گیا ہے گویا نہ یہ ترتیب بنتی ہے کہ اونٹ سب سے نیچا ہو۔اس سے اونچا آسمان ہو۔اس سے اونچا پہاڑ ہو اور اس سے اونچی زمین ہو اور نہ یہ ترتیب بنتی ہے کہ اونٹ سب سے اونچا ہو آسمان اس سے نیچا ہو۔پہاڑ اس سے نیچے ہوں اور زمین ان سے نیچی ہو۔کبھی کبھی ایک اور رنگ بھی ترتیب کے بیان میں استعمال کر لیا جاتا ہے اور وہ اس طرح کہ پہلے درمیانی چیز کا ذکر کر دیا جاتا ہے پھر ان اشیاء کا ذکر کر دیا جاتا ہے جو اس کے دائیں بائیں ہوں مگر یہاں اِ بِل کے بعد آسمان کا ذکر دیا گیا ہے۔آسمان کے بعد پہاڑوں کا اور پہاڑوں کے بعد زمین کا۔اگر چوٹی کی چیز کو پہلے بیان کر دیا جاتا اور اس کے بعد ایسی چیزوں کا نام لیا جاتا جو اس سے کم اونچی ہیں تو خیر کوئی بات بھی تھی مگر بظاہر اس جگہ کوئی اصل بھی مدنظر نہیں رکھا گیا۔نہ نیچے سے اوپر مضمون گیا ہے نہ اوپر سے نیچے کو مضمون گیا ہے اور نہ درمیان کی کسی چیز کا پہلے ذکر کر کے اس سے تعلق رکھنے والی چیزوں کا بعد میں ذکر کیا گیا ہے۔پس یا تو ان آیات کو بے ترتیب قرار دینا پڑے گا جو قرآن کریم کی شان کے خلاف ہے یا ان آیات کو دو الگ الگ مثالوں پر مشتمل قرار دینا ہو گا۔جن میں سے ایک میں نیچے سے اوپر کی طرف مضمون لے جایا گیا ہے اور دوسری میں اوپر سے نیچے کی طرف ایک مثال کے ذریعہ اِ بِل اور سـماء کی آپس میں کوئی نسبت بتائی ہے اور دوسری ـمثال کے ذریعہ جبال اور ارض کی آپس میں کوئی نسبت بتائی ہے۔اور میرے نزدیک ان آیات میں یہی آخری طریق استعمال ہوا ہے۔اِ بِل کے معنے اس جگہ اونٹوں ہی کے ہیں لیکن سـماء کے معنے اس جگہ آسمان کے نہیں بلکہ بادل کے ہیں جیسا کہ وَالسَّمَآءِ ذَاتِ