تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 142 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 142

اَفَلَا يَنْظُرُوْنَ اِلَى الْاِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْٙ۰۰۱۸ کیا وہ اونٹوں کونہیں دیکھتے کہ وہ کس طرح پیدا کئے گئے ہیں۔وَ اِلَى السَّمَآءِ كَيْفَ رُفِعَتْٙ۰۰۱۹ اور آسمان کو (نہیں دیکھتے کہ) کس طرح اونچا کیا گیا ہے۔حلّ لُغات۔اِ بِلٌ۔اِ بِلٌ: کے معنے اونٹوں کے ہوتے ہیں لیکن بعض علماء ادب نے اس کے معنے بادل کے بھی کئے ہیں۔امام راغب نے اپنی کتاب مفردات میں لکھا ہے کہ اس کے معنے اگر بادل کے ہیں تو بھی استعارہ کے طور پر ہیں لغت میں یہ معنے نہیں ہیں(مفردات)۔گو بعض آئمہ نے حتی کہ کسائی تک نے کہا ہے کہ اس کے معنے بادل کے ہیں۔جیسا کہ صاحبِ محیط کہتے ہیں وَرُوِیَتْ عَنْ اَبِیْ عَـمْرٍو وَاَبِیْ جَعْفَرٍ وَالْکِسَائِیِّ وَقَالُوْا اِنَّـھَا السَّحَابُ عَنْ قَوْمٍ مِنْ اَھْلِ اللُّغَۃِ(البحر المحیط زیر آیت ’’اَفَلَا يَنْظُرُوْنَ اِلَى الْاِبِلِ ‘‘)۔لیکن لغت کی کتب لکھنے والوں نے ان معنوں کو تسلیم نہیں کیا۔وہ یہی کہتے ہیں کہ لغت کے لحاظ سے اس کے حقیقی معنے اونٹوں کے ہی ہیں۔میں بھی پہلے اس آیت میں اِ بِل کے معنے اونٹوں کی بجائے بادل کے کیا کرتا تھا اور سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ اگر اِ بِل کے معنے یہاں اونٹوں کے ہی کئے جائیں تو پھر اِ بِل اور سَـمَاء میں جوڑ کیا ہوا۔اس وقت بادل کے معنے زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتے تھے لیکن اب جو میں نے غور کیا تو یہی بات ٹھیک نکلی کہ اس آیت میں اِ بِل کے معنے اونٹوں کے ہی ہیں۔پہلے میں اس آیت پر صرف اسی آیت کو سامنے رکھ کر غور کرتا رہا ہوں۔لیکن اب جو میں نے ترتیب آیات کے لحاظ سے غور کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ اونٹوں کا سَـمَاء کے ساتھ تو جوڑ نظر آتا ہے مگر بادل کا کوئی جوڑ نہیں جیسا کہ مفردات والوں اور صاحب کشاف نے لکھا ہے یہ درست معلوم ہوتا ہے کہ اِ بِل کے معنے جن لوگوں نے بادل کے کئے ہیں فَعَلٰی تَشْبِیْہِ السَّحَابِ یعنی وہ اس وجہ سے کئے ہیں کہ اونٹ اس طرح اونچے نیچے چلتے ہیں جس طرح بادل چلتا ہے۔پس چونکہ اِ بِل کو چلنے کے لحاظ سے بادلوں سے مشابہت ہوتی ہے اس لئے محاورہ میں اِ بِل کا لفظ بادل کے لئے استعمال کیا جانے لگا ورنہ اِ بِل کے اصل معنے بادل کے نہیں ہیں(مفردات)۔تفسیر۔اَفَلَا يَنْظُرُوْنَ اِلَى الْاِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ۔وَاِلَى السَّمَآءِ كَيْفَ رُفِعَتْ میں مضمون نیچے سے اوپر گیا ہے اور اگلی آیت یعنی وَ اِلَى الْجِبَالِ كَيْفَ نُصِبَتْ۔وَ اِلَى الْاَرْضِ كَيْفَ سُطِحَتْ میں مضمون اوپر سے نیچے آیا