تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 141 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 141

کر مٹی کا بورا اپنی پیٹھ پر رکھوا لیا جو ان کے ساتھیوں کو بہت برا لگا مگر انہوں نے اس بات کی کوئی پرواہ نہ کی بورا اٹھایا اور زور سے ایک نعرہ لگا کر اپنے ساتھیوں سے کہا آ جاؤ بادشاہ نے خود ایران کی زمین ہمارے حوالے کر دی ہے۔مشرک تو ہوتا ہی وہمی ہے یہ سنتے ہی بادشاہ کا رنگ زرد ہو گیا اس کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور اس نے درباریوں سے کہا جلدی جاؤ اور ان کو پکڑ کے لے آؤ مگر وہ گھوڑوں پر سوار ہو کر اس وقت تک دور نکل چکے تھے اس لئے وہ ناکام واپس آئے۔(البدایۃ و النـھایۃ: فصل فی غزوۃ القادسیۃ) دیکھو یہ کیسی لطیف اور باموقع بات اس صحابیؓ کو سوجھی باقی صحابہؓ کو اس کا خیال نہیں آیا وہ یہی سمجھتے رہے کہ ہمارے سردار نے اچھا نہیں کیا جو مٹی کا بورا اٹھا لیا مگر جب اس نے نعرہ لگا کر حقیقت ظاہر کی تب انہیں پتہ لگا کہ یہ کیسی لطیف بات تھی۔پھر دیکھو صحابہؓ جس جگہ بھی گئے لوگوں نے ان کا عزت سے استقبال کیا۔یوروشلم کا واقعہ ایک مشہور تاریخی واقعہ ہے پہلے مسلمانوں نے اسے فتح کر لیا مگر کچھ عرصہ کے بعد دشمن نے بڑے لشکروں سے اس پر حملہ کر دیا اور مسلمانوں کو یوروشلم چھوڑ کر پیچھے ہٹنا پڑا۔جب مسلمان لشکر واپس آنے لگا تو یوروشلم کے عیسائی روتے تھے حالانکہ اس وقت مسلمانوں کا عیسائیوں سے مقابلہ تھا اور عیسائیوں کا اپنا ہم مذہب بادشاہ یوروشلم پر قابض ہو رہا تھا مگر اس کے باوجود وہ مسلمان لشکر کو شہر کے باہر تک چھوڑنے کے لئے آئے اور ساتھ ساتھ یہ کہتے جاتے تھے کہ خدا تم کو پھر ہمارے ملک میں واپس لائے(فتوح البلدان للبلاذری: امر حمص و یوم الیرموک)۔تو دیکھو ان کا اپنا ملک تھا۔اپنی قوم مسلمانوں سے برسر جنگ تھی۔مگر انہیں اپنے مذہب کی بادشاہت کے مقابلہ میں ایک غیر قوم کی حکومت اچھی لگتی تھی اور وہ دعائیں کرتے تھے کہ خدا مسلمانوں کو پھر ہمارے شہر میں واپس لائے۔غرض بتایا کہ مسلمان جہاں جائیں گے لوگ اپنی آنکھیں فرشِ راہ کریں گے اور کہیں گے آئیے اور تشریف رکھیے۔آخر وہ کون سی چیز تھی جس کی وجہ سے اسلام کو فتح حاصل ہوئی۔اور مسلمان جہاں گئے پھیلتے چلے گئے اس کی وجہ یہی تھی کہ مسلمان منصف مزاج تھے اور وہ لوگوں کے حقوق کو غصب نہیں کرتے تھے۔غصہ سے انسان تب لڑتا ہے جب وہ سمجھتا ہے کہ میرا نقصان ہو رہا ہے لیکن جب وہ سمجھتا ہو کہ ہمارے اپنے بادشاہ ظلم کرتے ہیں مسلمان آئیں تو انصاف کریں گے اس وقت وہ دل سے نہیں لڑ سکتا بلکہ عزت کے ساتھ پیش آتا ہے۔پس فرماتا ہے مسلمانوں کی حالت یہ ہو گی کہ وہ جدھر جائیں گے لوگ اپنی آنکھیں ان کی راہ میں بچھائیں گے جس جگہ ٹھہریں گے لوگ تکیے لگائیں گے۔ان کے قدموں میں قالینیں بچھائیں گے جیسے گورنروں یا حاکموں کے استقبال کے موقع پر ہوتا ہے اور کہیں گے کہ ہمارے ہاں ہی ٹھہریئے اور آگے نہ جائیے۔