تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 6 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 6

ظاہر کئے جاتے ہیں جن میں مسیح موعود کا وجود بطور واسطہ اور آئینہ کے ہے اور طارق نام ہے اس وقت کا جب اسلام کو غلبہ حاصل ہو جائے گا کیونکہ مہدی کے ہاتھ پر ہی اسلام کی فتح اور اس کا غلبہ اور اس کی شریعت کا قیام مقدر ہے۔جب تک اسلام کے غلبہ کا زمانہ آئے مسیح موعودؑ کا بدر نام غالب رہے گا۔بدر کی جنگ میں بھی مسلمان سخت کمزور تھے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بدری زمانہ فتح کی علامت ہے لیکن ساتھ ہی وہ کمزوری کی بھی علامت ہے مگر نَـجْمُ الثَّاقِب کمزوری کو اپنے پیچھے چھوڑتا ہوا ترقی کو اپنے آگے لے آتا ہے۔دونوں جگہ سَـمَاء کا لفظ رکھ کر اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتایا ہے کہ یہ دونوں نظام آسمان کے تابع ہیں یعنی الہام الٰہی سے وابستہ ہوں گے۔بدری مقام بھی الہام الٰہی سے وابستہ ہو گا اور مہدویت کا مقام بھی الہام الٰہی سے وابستہ ہوگا۔بغیر آسمانی نظام کے نہ بدری مقام حاصل ہو سکتا ہے اور نہ طارق کا مقام حاصل ہو سکتا ہے یہ دونوں عہدے آسمانی نظام چاہتے ہیں۔اور پھر اس آسمانی نظام کو دہرانے میں ایک یہ بھی غرض ہے کہ مسیح موعودؑ کی بعثت کے بعد بھی اللہ تعالیٰ اس کے مختلف مظاہر پیدا کرتا رہے گا کوئی مہدویت کا مظہر ہو گا اور کوئی مسیحیت کا مظہر ہو گا مگر ان پر الہام الٰہی کا ہونا ضروری ہوگا کیونکہ دونوں جگہ سَـمَاء کا لفظ رکھا گیا ہے جو الہام الٰہی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔النَّجْمُ الثَّاقِبُۙ۰۰۴ وہ ستارہ (وہ ہے) جو بہت چمکتا ہے۔حلّ لُغات۔الثَّاقِبُ۔الثَّاقِبُ: ثَقَبَ سے اسم فاعل ہے اور ثَقَبَ کے معنے چھید کرنے کے ہوتے ہیں۔(اقرب) اور اَلنَّجْمُ الثَّاقِبُ کے معنے ہیں۔روشن ستارہ جو ظلمت کو چھید دے۔نیز کہتے ہیں ثَقَبَ النَّجْمُ اور معنے ہوتے ہیں اَضَاءَ یعنی ستارہ روشن ہوا(منجد)۔زمخشری اپنی کتاب اساس میں لکھتے ہیں کہ کَوْکَبٌ ثَاقِبٌ وَّ دُرِّیٌّ کے معنے ہیں شَدِیْدُ الْاِضَاءَۃِ وَالتَّلَالُـؤِ کَاَنَّہٗ یَثْقُبُ الظُّلْمَۃَ فَیَنْفُذُ فِیْـھَا وَیَدْرَاُھَا اَیْ یَدْفَعُھَا (اقرب) یعنی کَوْکَبٌ ثَاقِبٌ یا کَوْکَبٌ دُرِّیٌّ کے معنے ہوتے ہیں ایک چمکتا ہوا ستارہ جس میں خوب روشنی اور چمک ہو گویا وہ ظلمت کو چھید دیتا اور اس میں گھس کر ہر قسم کی تاریکی کو دور کر دیتا ہے۔اَلنَّجْمُ۔اَلنَّجْمُ (۱)اَلْکَوْکَبُ ستارا (۲)اَلنَّبَاتُ عَلٰی غَیْـرِ سَاقٍ وَ ھُوَ خِلَافُ الشَّجَرِ کے بے جڑ والی بوٹی جس کو ہمارے ملک میں بیل کہتے ہیں۔(۳) اَلْاَصْلُ کسی چیز کی جڑ۔کہتے ہیں۔ھُوَ مِنْ نَـجْمِ صِدقٍ وہ