تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 7 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 7

سچائی کی جڑ سے ہے اَلنَّجْمُ لَیْسَ لِھٰذَا الْـحَدِیْثِ نَـجْمٌ اَیْ اَصْلٌ نَـجْمٌ کی جمع اَنْـجُمٌ وَ اَنْـجَامٌ وَ نُـجُوْمٌ وَنُـجُمٌ آتی ہے۔(اقرب) یعنی اس کی بات سچی ہوتی ہے یا وہ اعلیٰ خاندان سے ہے۔تفسیر۔جیسا کہ اوپر بتایا جا چکا ہے۔بدر کے لفظ سے یہ بتایا گیا تھا کہ بدری لحاظ سے باوجود ظلمتِ زمانہ کے آنے والا موعود نورِ محمدی کو پھیلا دے گا۔اور اس کی جماعت اسلام کی خادم ہو گی اور طارق کے لحاظ سے یہ بتایا گیا ہے کہ وہ ہر قسم کی ظلمتوں کو پھاڑ دے گا۔درحقیقت محمدی زمانہ جلال کا زمانہ ہے اور فتوحات مہدویت سے تعلق رکھتی ہیں اس لئے طارق کا لفظ لا کر بتا دیا کہ اس کے آنے کے ساتھ اسلامی فتوحات کا زمانہ آجائے گا اور تمام قسم کی ظلمات کو وہ پھاڑ کر رکھ دے گا۔اِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَيْهَا حَافِظٌؕ۰۰۵ (اس امر پر قسم کھاتے ہیں کہ اس قسم کی) کوئی جان نہیں جس پر ایک نگران (خدا تعالیٰ کی طرف سے ) مقرر نہ ہو۔حلّ لُغات۔لَمَّا۔لَمَّا کے کئی معنے ہوتے ہیں جن میں سے ایک اِلَّا کے ہیں چنانچہ لغت میں لکھا ہے وَالثَّالِثُ مِنْ اَوْجَھِھَا اَنْ تَکُوْنَ حَرْفُ اسْتِثْنَاءٍ فَتَدْخُلُ عَلَی الْـجُمْلَۃِ الْاِسْـمِیَّۃِ نَـحْوُ اِنْ کُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَیْـھَا حَافِظٌ (اقرب) یعنی لَمَّا کی تیسری قسم یہ ہے (ہر قسم کی بھی آگے کئی کئی اقسام ہیں) کہ یہ حرفِ استثناء ہوتا ہے اور جملہ اسمیہ پر آتا ہے جیسے قرآن کریم کی یہ آیت ہے کہ اِنْ کُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَیْھَا حَافِظٌ۔یہاں سیبویہ کا ایک فقرہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ اَعْـجَبُ الْکَلِمَاتِ کَلِمَۃُ لَمَّا اِنْ دَخَلَ عَلَی الْمَاضِی یَکُوْنُ ظَرْفًا وَ اِنْ دَخَلَ عَلَی الْمُضَارِعِ یَکُوْنُ حَرْفًا وَ اِنْ دَخَلَ لَا عَلَی الْمَاضِی وَلَا عَلَی الْمُضَارِعِ یَکُوْنُ بِـمَعْنٰی اِلَّا (اقرب) یعنی لَمَّا ایک عجیب کلمہ ہے اگر ماضی پر داخل ہو تو ظرف کے معنے دیتا ہے اور اگر مضارع پر داخل ہو تو حرف ہوتا ہے اور اگر نہ ماضی پر داخل ہو اور نہ مضارع پر تو اس کے معنے اِلَّا کے ہوتے ہیں۔بہرحال لَمَّا کے کئی معنے ہوتے ہیں اور جب یہ جملہ اسمیہ پر آتا ہے تو اس کے معنے اِلَّا کے ہوتے ہیں لیکن درحقیقت عربی محاورہ سے پتہ لگتا ہے کہ جب یہ اسم پر آئے اس وقت ہی اس کے معنے اِلَّا کے نہیں ہوتے بلکہ اسم کے بغیر بھی یہ اِلَّا کے معنے دیتا ہے چنانچہ کہتے ہیں اَنْشُدُکَ اللّٰہَ لَمَّا فَعَلْتَ۔اَیْ مَااَسْاَلُکَ اِلَّا فِعْلَکَ یعنی سوائے تمہارے کام کے مجھے کسی اور سے غرض نہیں(اقرب)۔تفسیر۔فرماتا ہے اِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَيْهَا حَافِظٌ ہر جان جو دنیا میں آتی ہے اس پر ایک نگران مقرر