تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 5 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 5

اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے لکھا ہے کہ میرا مدار مہدی کے نام پر ہے گو ہماری جماعت میں مسیح موعود نام زیادہ مشہور ہے درحقیقت بدر قائم مقام ہے عیسیٰ کا اور طارق قائم مقام ہے مہدی کا۔عیسوی مقام پر کھڑے ہونے والے جس قدر لوگ آئے ہیں وہ صرف آخری ہی نہیں تھے بلکہ مسبوق شرعی نبی کے خاتِم بھی تھے۔ان کے آنے پر وہ سلسلہ ختم ہو گیا اور ایک نیا سلسلہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جاری کیا گیا۔اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آنے والے کا نام مسیح بھی رکھا اور مہدی بھی رکھا۔نبی بھی رکھا اور امّتی بھی رکھا۔نبی کے لحاظ سے وہ بدر ہے اور امّتی کے لحاظ سے وہ طارق ہے پس قرآن کریم نے آنے والے کے دو نام رکھے ہیں ایک اِتِّسَاقِ قَـمْر یا یَوْمِ مَوْعُوْد اور ایک طَارِق جس میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ پھر نورِ محمدؐی کو دنیا میں روشن کر دے گا گویا وہ اسلام کی ترقی اور انوارِ محمدؐی کے ظہور کی خبر دینے والا ہوگا۔اس طرح ان سورتوں میں دونوں پیشگوئیوں کو بیان کر دیا گیا ہے عیسٰی کی پیشگوئی پہلی دو جگہ بیان ہوئی ہے اور مہدویت کی پیشگوئی اس جگہ بیان ہوئی ہے۔یہ بات بھی اپنے اندر ایک لطافت رکھتی ہے کہ اس سورۃ کے آخر میں پھر مضمون کو پہلے زمانہ کی طرف پھیر دیا گیا ہے جیسے فرماتا ہے فَمَهِّلِ الْكٰفِرِيْنَ اَمْهِلْهُمْ رُوَيْدًا۔گویا آخر میں پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی طرف مضمون کو پھیر دیا اور جس طرح مضمون کا ابتداء رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے ذکر سے کیا گیا تھا اسی طرح مضمون کا خاتمہ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے ذکر پر کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں آسمان کو۔پہلی سورۃ میں بھی آسمان کو بطور شہادت پیش کیا گیا تھا مگر وہاں فرمایا تھا وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الْبُرُوْجِ وہاں اس ترتیب کو بیان کیا گیا تھا کہ مختلف حالتوں میں سے اسلام گذرتا جائے گا۔اور ہر زمانہ میںاللہ تعالیٰ کی طرف سے تجدید دین کا کام جاری رہے گا یہاں تک کہ یَوْمِ مَوْعُوْد آ جائے گا یعنی ایسا شخص کھڑا ہو گا جس کا نام نبی ہو گا اور لوگوں کے دلوں میںشبہ پیدا ہو گا کہ شائد نورِ محمدؐی ختم ہوگیا ہے۔چونکہ یہ شبہ لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو سکتا تھا اس لئے فرماتا ہے اب ہم اس کی دوسری جہت کو پیش کرتے ہیں کہ اس کی ایک جہت ایسی ہی ہے جیسے طارق ہوتا ہے۔جس طرح آسمانی نظام میں دونوں باتیں ہوتی ہیں چاند بھی ہوتا ہے اور تاریک راتیں بھی ہوتی ہیں۔اسی طرح وہ بدر بھی ہو گا اور طارق بھی۔گویا ایک نام ایک جہت سے ختم کرنے کے معنی دیتا ہے اور دوسرا نام دوسرے جہت سے اجراء کے معنے دیتا ہے اور بتاتا ہے کہ مسیح موعودؑ کی بعثت جہاں نورِ محمدؐی کو بالواسطہ پھیلائے گی۔وہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو بھی دنیا میں قائم کردے گی۔پس آپؐکا بدر نام ہے اس وقت کا جب تک کہ اسلام کو غلبہ حاصل نہیں ہوتا اور صرف روحانی فیوض