تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 77

اس معیار کے نہ ہوں تو وہ قوم کبھی کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکتی۔بڑی کامیابی کے حصول کے لئے ضروری ہے کہ قوم کا عام معیارِ اخلاق ایک ہو۔اگر قوم کا ایک فرد آسمان پر ہو اور دوسرا زمین پر تو وہ کبھی اپنی قوم کے لئے اتنے مفید ثابت نہیں ہو سکتے جتنے مفید وہ ساٹھ ستر فیصدی افراد ہو سکتے ہیں جو مثلاًایک ایک گز زمین سے اُونچے ہوں کیونکہ گو وہ آسمان والے کے مقابلہ میں بہت نیچے ہوں گے مگر سب کا معیار یکساں ہوگا۔اگر دس افراددو دو فٹ بھی اُونچے ہوں تو وہ اُن دس افراد سے زیادہ مفید ہوں گے جن میں سے ایک آسمان پر ہو اور نو زمین پر۔پسكَوَاعِبَ اَتْرَابًا میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیاہے کہ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ ایسی برکتیں دے گا کہ جب وہ مقام مفاز میں پہنچیں گے تو ان کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہوگی کہ ان کی عورتوں کا دینی معیا ربھی اُونچا ہو جائے گا اور پھر وہ اس معیار میں ایک دوسری کے برابر ہوں گی۔غرض کَوَاعِب میں اُن کے معیار کے اونچا ہونے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے یعنی عورتوں کا دینی معیا ر بلند ہو گااور سب میں جوش اور جوانی اور بلندی پائی جائے گی۔اور اَتْرَابٌ سے اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اُن کی ترقی قومی ترقی ہوگی انفرادی نہیں۔یعنی سب میں یہ جوش ایک دُوسرے سے ملتا جلتا پایا جائے گا۔یہ نہیں ہوگاکہ چند عورتوں میں توجوش وخروش بے انتہاء ہواور باقی اپنے فرض سے غافل ہوں بلکہ سب عورتوں میں ملتا جُلتا دینی جوش پایا جائے گا اور وہ سب کی سب دین کی ترقی کے لئے ایک جیسی قربانی کرنے کے لئے تیار رہیں گی چنانچہ اسلامی تاریخ کا اگر مطالعہ کیا جائے تو کثرت سے ایسی عورتوں کی مثالیں نظر آتی ہیں جنہوں نے جنگوں میں بہت بڑی جرأت اور ہمت کا ثبوت دیا۔مہاجرین کی بیویوں کو ہم دیکھتے ہیں تو اُن میں بھی ہمیں یہ شان نظر آتی ہے اور انصار کی بیویوں کو دیکھتےہیںتو اُن میں بھی ہمیں یہ شان نظر آتی ہے۔ہزارہا عورتیں ایسی ہیں جن کا تاریخوں میں ذکر آتا ہے اور جنہوں نے مختلف مواقع پر كَوَاعِبَ اَتْرَابًا ہونے کی ایسی شان دکھائی کہ آجکل کے مرد بھی اُن کے مقابلہ میں ہیچ نظر آتے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کَوَاعِب کا لفظ استعمال فرمایا ہے جو جسمانی اور روحانی دونوں حالتوں پر دلالت کرتا ہے مگر ایسے لفظ کے لانے میں حکمت یہ تھی کہ یہاں وہ مضمون بیان کئے جارہے تھے ایک وہ مضمون تھا جس کا قیامت سے تعلق تھا اور ایک وہ مضمون تھا جس کا اس دنیا سے تعلق تھا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایسا لفظ استعمال فرمایا جو دونوں مقامات پر چسپاں ہو سکتا ہے قیامت کے معنے اگر لئے جائیں تب بھی یہ لفظ ٹھیک ہے کیونکہ جنت میں ہر آدمی جوان ہونے کی حالت میں داخل کیا جائے گا۔حدیثوں میں آتا ہے رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس ایک دفعہ ایک بوڑھی عورت آئی۔معلوم ہوتا ہے اُسے بے وقت بات کرنے کی عادت تھی اُس نے آتے ہی