تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 78
آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے لئے دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے جنت میں داخل کرے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم غالباً اور گفتگو میں مصروف تھے اِس لئے اُسے مذاقًا مختصر طور پرجو اب دیا کہ جنت میں کوئی بوڑھی عورت نہیں جائے گی۔وہ یہ سنتے ہی رونے اور چیخنے چِلّانے لگی اور اسی حالت میں واپس ہو گئی۔آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے صحابہ ؓمیں سے کسی کو بُلا کر فرمایا کہ جائو اس کو کہو میرا وہ مطلب نہیں تھا جو اُس نے سمجھا ہے بلکہ میرا مطلب تو یہ تھا کہ جنت میں جو بھی داخل کئے جائیں گے سب جوان ہو کر جائیں گے بڑھاپے کی حالت میں نہیں جائیں گے۔(شمائل ترمذی باب ما جاء فی صفۃ مزاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کواعب اور اتراب سے مراد مسلمان عورتیں اور واقعہ میں وہ مقام جو دائمی سرور کا ہے وہاں اگر بڑھاپے کی حالت میں کوئی شخص چلا جائے تو جنت دوزخ سے بد تر بن جائے۔آدمی تو ساٹھ اسی سو سال تک بوڑھا ہو جاتا ہے اگر اسی طرح اس کا بڑھاپا بڑھتا چلا جائے تو دس بیس ہزار سال میںتو وہ ایسی ذلیل چیز بن جائے گا کہ اس کا لذت اٹھا نا تو الگ رہا۔وہ شاید ایک گیند کی شکل میں تبدیل ہوجائے گا۔پس جنت کی یہ ایک ضروری شرط ہے کہ وہاں سب جوان کر کے داخل کئے جائیںگے اور ہمیشہ اسی حالت میں رکھے جائیں گے۔اسی طرح جنت کے لحاظ سے انسان کے جو ساتھی ہوں گے یعنی بیوی بچے وہ بھی سب جوان ہوں گے لیکن جب ہم اس آیت کو دنیا پر چسپاں کریں تو پھر کَوَاعِب کے معنے ایسی ہی عورتوں کے ہوں گے جو حوصلہ اور جرأت اور بہادری کے لحاظ سے جوان ہوں۔کَوَاعِب کے یہ معنے نہیں ہوں گے کہ وہ جسمانی لحاظ سے جوان ہوںگی کیونکہ اگر یہ معنے لئے جائیں تو پھر اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ کَوَاعِبَ کے یہ معنے ہوں گے کہ اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ کَوَاعِبَ فِیْ الْاِبْتِدَائِ یعنی متقیوںکو شروع میں جوان بیویاں ملیں گی لیکن بعد میں بوڑھی ہو جائیںگی اور یا پھر یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ متقیوں کا فرض ہے کہ وہ جوان عورتوں سے شادیاں کریں اور جب وہ بوڑھی ہونے لگیں تو انہیں طلاق دے دیا کریں کیونکہ اُس وقت وہ کَوَاعِب نہیں رہ سکتیں اور یا پھر یہ ماننا پڑے گا کہ متقیوں کو جو عورتیں ملیںگی وہ کبھی بوڑھی ہی نہیں ہوں گی مگر یہ تینوں صورتیں غلط ہیںاور انسان کو مجبور کرتی ہیں کہ اس جگہ روحانی معنے مراد لے جسمانی معنے مرادنہ لے کیونکہ یہاں زمانہ نہیں بتایا گیا کہ وہ فلاں عمر میں جوان ہوں گی اور فلاں عمر میں نہیں بلکہ بتا یا یہ گیا ہےکہ وہ ہمیشہ کَوَاعِب رہیں گی۔پس لازمًااس کے معنے جوان عمرہونے کے نہیں بلکہ حوصلہ اور ہمت کے لحاظ سے جوان ہونے کے ہیں۔پھر بتایا کہ وہ نہ صرف ہمت اور عزم اور ارادہ کے لحاظ سے جوان ہوںگی بلکہ وہ اَتْرَاب بھی ہوںگی یعنی ساری عورتیں یکساں جوان ہوں گی۔ساری عورتیں یکساں بلند ہمت ہوں گی اور ساری عورتیں یکساں حوصلہ مند ہوں گی۔یہ ایک بہترین انعام