تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 73

جُزئیات اس کی بتائی گئی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ متقیوں کو جو مَفَا زًا حاصل ہو گا اس کی کچھ تشریحات ہم تم کو بتاتے ہیں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ متقیوں کو حَدَائِق یعنی باغات ملیں گے۔حَدَائِق حَدَیْقَۃٌ کی جمع ہے اوریہ حدیقے مکہ میں نہیں ہوتے مدینہ میں ہی ہوتے ہیں گویا ان الفاظ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مدینہ کا نقشہ کھینچ دیا کیونکہ حَدَائِق مدینہ میں ہوا کرتے ہیں۔بعد میں بے شک ساری دنیا ہی مسلمانوں کے لئے حَدِیْقۃ بن گئی۔لیکن جہاں تک ظاہری الفاظ کا سوال ہے یہ نقشہ مدینہ پر ہی چسپاں ہوتا ہے۔لُغت کے لحاظ سے حَدِیْقۃ اُس باغ کو کہا جاتا ہے جس کے اردگرد دیوار ہو (اقرب) اور مدینہ میں اس کا عام رواج تھا۔چنانچہ حدیثوں میں آتا ہے کہ جب رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی کہ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ (آل عمران:۹۳ ) تو ابوطلحہؓانصاری نے سب سے پہلے اپنا حَدِیْقۃ رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں پیش کیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ مجھے اَحَبّ الْمَال یہحَدِیْقۃ ہے۔(بخاری کتاب التفسیرباب قولہ تعالیٰ لن تنالوا البر حتی۔۔۔و ترمذی جلد دوم کتاب التفسیر باب من سورۃ ال العمران) حَدَآىِٕقَ وَ اَعْنَابًا کے الفاظ سے مقام نجات کی تعیین اسی طرح حضرت ابوھریرہ ؓ کی ایک روایت میں آتا ہے کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ایک دفعہ بعض اصحاب کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔اچانک حضور اُٹھ کر چلے گئے جب آپ کو واپس آنے میں دیر ہوگئی تو میرے دل میں سخت گھبراہٹ پیدا ہوئی کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اتنی دیر کیوں لگا دی ہے ایسا نہ ہوکہ کسی دشمن نے آپ کو نقصان پہنچایا دیا ہو۔چنانچہ میں آپ کی تلاش میں انصار کے ایک حَدِیْقۃکی طرف چلا گیا۔معلوم ہوتا ہے رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اُس حَدِیْقۃ کا پھاٹک بند کر لیا تھا۔کیونکہ حضرت ابو ھریرہ کہتے ہیں جب مجھے اس باغ کے اندر جانے کااور کوئی راستہ نہ ملاتو میں اُس کی نالی میں سے اندر داخل ہوا جیسے لُومڑ کسی تنگ جگہ میں سے اندر داخل ہوتا ہے (مسلم کتاب الایمان باب من مات علی التوحید دخل الجنۃ قطعا) غرض حَدَائِق کا رواج مدینہ والوں میں زیادہ تھا۔پس اللہ فرماتا ہے کہ اس پیشگوئی کے مطابق جو مقامِ فوز مسلمانوں کو ملنے والا ہے اس کی علامت یہ ہے کہ اس میں حَدَائِق ہوں گے اور اس میں اَعْنَاب ہوں گے۔حدائق سے مراد مسلمانوں کی منظم حکومت حَدَائِق کہہ کر بتا یا کہ اُن کا اپنااپنا علاقہ ہو گا اور اُس پر اُنہیں قبضہ تامّہ حاصل ہو گا۔کیونکہ حَدِیْقۃ وہی ہوتا ہے جو دوسروں سے الگ ہو۔اگر حَدِیْقۃ کے اردگرد دیوار نہ ہو تو یہ شبہ رہتا ہے اِس کی سرحدکون سی ہے اور اُس کی سرحد کون سی ہے۔پس جب مومنوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے حَدَائِق